پشاور: خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی حکومت کے اقتدار کا آغاز تو عوامی امنگوں کے ساتھ ہوا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ دورِ اقتدار انتظامی اصلاحات کے بجائے سیاسی محاذ آرائی کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں گورننس اور ترقیاتی عمل کو مستحکم کرنا تھی، لیکن عملی طور پر اقتدار کا بڑا حصہ احتجاجی تحریکوں، اسلام آباد مارچ اور اڈیالہ جیل کے بیانیے کے گرد گھومتا رہا۔ اس مستقل سیاسی ہنگامہ آرائی نے صوبائی مشینری کو عوامی ریلیف فراہم کرنے کے بجائے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے متحرک رکھا، جس سے انتظامی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔
صوبے کے عوام جو پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری اور امن و امان جیسے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہیں، حکومت سے ایک ٹھوس معاشی اور ترقیاتی روڈ میپ کی توقع کر رہے تھے۔ تاہم، بار بار کے دھرنوں اور جلسوں نے حکومتی توجہ کو عوامی فلاح سے ہٹا کر سیاسی مزاحمت کی طرف موڑ دیا ہے۔ تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں میں بہتری لانے کے بجائے سیاسی توانائیوں کا رخ مرکز کے ساتھ محاذ آرائی کی طرف رہا، جس نے صوبے میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ایک ذمہ دار حکومت کا اصل امتحان سڑکوں پر سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنا نہیں، بلکہ اداروں میں نظم و ضبط پیدا کرنا اور شہریوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانا ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ حکومت احتجاجی بیانیے سے نکل کر عملی کارکردگی اور ٹھوس پالیسی سازی پر توجہ دے۔ اگر سیاسی مفادات کو عوامی خدمت پر فوقیت دی جاتی رہی، تو صوبے کے اصل مسائل حل طلب رہیں گے اور عوام سیاسی کشمکش کی بھاری قیمت چکاتے رہیں گے۔ خیبر پختونخوا کو اب نعروں کی نہیں بلکہ کارکردگی پر مبنی سنجیدہ حکمرانی کی ضرورت ہے۔
دیکھئیے:بنوں حملے پر پاکستان کا سخت سفارتی ردِعمل، افغان ناظم الامور دفترِ خارجہ طلب