اسلام آباد میں “معرکۂ حق” کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی تقریبِ رونمائی منعقد کی گئی جس میں کتاب “Marka-e-Haq: Deterrence, Provocation and Strategic Maturity in South Asia” کو باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔ تقریب میں سفارتی، عسکری، علمی اور پالیسی حلقوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی جبکہ جنوبی ایشیا کی تزویراتی صورتحال، خطے میں بڑھتی کشیدگی، ڈیٹرنس پالیسی اور پاکستان کے مؤقف پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
تقریب کا آغاز
تقریب کے آغاز میں سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ڈائریکر ایمبسڈر علی سرور نقوی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے تمام شرکاء اور کتاب سے وابستہ شخصیات کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری، اسٹریٹجک بصیرت اور ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر تحمل اور دانشمندی کا مظہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کتاب عالمی سطح پر ڈیٹرنس اور تزویراتی توازن سے متعلق مباحثے میں ایک سنجیدہ علمی اضافہ ہے۔
علی سرور نقوی نے کہا کہ جدید جنگی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جہاں سائبر وارفیئر، ڈرونز، پریسیژن اسٹرائیک صلاحیتیں، بیانیے کی جنگ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ڈیٹرنس اب صرف عسکری طاقت کا نام نہیں بلکہ اس کے سیاسی، نفسیاتی اور سفارتی پہلو بھی انتہائی اہم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں جنوبی ایشیا کے مستقبل، کشمیر، پانی کے تنازع اور بھارت کے بدلتے ہوئے بیانیے سمیت اہم موضوعات کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ظفر خان کا خطاب
کتاب کے ایڈیٹر ڈاکٹر ظفر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب کا مقصد “معرکۂ حق” کا مختلف زاویوں سے تنقیدی اور تحقیقی جائزہ پیش کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کتاب کے دس ابواب معروف اسکالرز، سفارتکاروں اور سابق عسکری حکام نے تحریر کیے ہیں جن میں ڈاکٹر رضوانہ، ڈاکٹر جسپال، لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل، ضمیر اکرم، ڈاکٹر ظہیر کاظمی، ڈاکٹر اختر، ڈاکٹر نعیم صادق، ڈاکٹر خالد، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز اور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض شامل ہیں۔
ان کے مطابق کتاب اجتماعی طور پر اس مؤقف کی حمایت کرتی ہے کہ بحرانوں کے دوران دانشمندانہ حکمت عملی اور مؤثر بحران مینجمنٹ پاکستان کی بڑی کامیابی رہی ہے۔
زبیر محمود حیات کا خصوصی خطاب
تقریب کے مہمانِ خصوصی جنرل زبیر محمود حیات نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنوبی ایشیا میں غلط اندازے اکثر حقیقت سے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں اور یہی خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” پر لکھی گئی یہ کتاب خطے کو درپیش خطرات، غلطیوں اور اسٹریٹجک چیلنجز کا حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کرتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران جنوبی ایشیا میں ایک “نیا معمول” قائم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم پاکستان نے واضح کر دیا کہ خطے میں کسی یکطرفہ اسٹریٹجک برتری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ پچیس برسوں کے دوران متعدد بار محدود اشتعال انگیزی اور حساب شدہ عسکری دباؤ کے ذریعے پاکستان کو زیرِ اثر لانے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی “فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس” پالیسی خطے میں توازن برقرار رکھنے کی ضامن ہے جبکہ “معرکۂ حق” نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان ہر سطح پر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر اور پانی کے تنازعات جنوبی ایشیا کے دو بڑے ایٹمی فلیش پوائنٹس ہیں جن پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور مذاکرات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کی مہم جوئی خطے کے امن کو نقصان پہنچا رہی ہے جبکہ آر ایس ایس سے متاثرہ انتہا پسند سوچ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
ضمیر اکرم کی خصوصی گفتگو
سابق سفیر ضمیر اکرم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا رویہ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی خطے میں کشیدگی اور تصادم کو فروغ دیتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” نے بھارت کی سپر پاور بننے کی خواہشات اور “اکھنڈ بھارت” کے تصور کو شدید دھچکا پہنچایا۔ ان کے مطابق بھارت نے مسلسل پاکستان کے خلاف ہائبرڈ وارفیئر، دہشت گردی اور سیاسی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کیا لیکن حالیہ بحران کے دوران بھارت کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں مؤثر سفارتی کردار ادا کیا جبکہ بھارت کی پالیسیوں نے اسے عالمی سطح پر متنازع بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق بھارت اب خطے کے لیے ایک ابھرتا ہوا سیکیورٹی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر چسپال اور جنرل سرفراز ستار کا اظہار خیال
قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جسپال نے کہا کہ بھارت کی “آفینسو ڈیفنس” پالیسی، سرحد پار کارروائیاں، دہشت گردی کی مالی معاونت اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں اس کی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے غیر متوازن جنگی حکمت عملی کا سہارا لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور عسکری اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ستار نے کہا کہ پاکستان کو اپنی توجہ بھارت کی پالیسیوں اور خطے میں اس کے رویے پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا موجودہ سیاسی و سماجی ڈھانچہ آر ایس ایس اور ہندوتوا نظریے سے شدید متاثر ہو چکا ہے اور پالیسی سازوں کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
مشاہد حسین سید کے اختتامی کلمات
سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ “معرکۂ حق” بھارت کے لیے 1962 کے بعد سب سے بڑا اسٹریٹجک دھچکا ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ایک صدی قبل ہی ہندوتوا ذہنیت کو بھانپ لیا تھا۔ ان کے مطابق موجودہ بھارت میں فسطائیت پر مبنی سیاسی ڈھانچہ مضبوط ہو رہا ہے جبکہ پاکستان نے “معرکۂ حق” کے دوران اپنی عسکری، سفارتی اور قومی صلاحیتوں کا مؤثر مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی غلط حکمت عملیوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا جبکہ “معرکۂ حق” پاکستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عالمی سطح پر پاکستان کو کمزور ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن حالیہ صورتحال نے اس تاثر کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔
تقریب کے دوران مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ذمہ دارانہ سفارتکاری، مؤثر ڈیٹرنس، بحران مینجمنٹ اور مذاکراتی عمل ناگزیر ہیں۔ مقررین کے مطابق یہ کتاب نہ صرف “معرکۂ حق” کے مختلف پہلوؤں کو دستاویزی شکل دیتی ہے بلکہ نئی نسل، پالیسی سازوں، محققین اور تزویراتی امور کے طلبہ کے لیے بھی ایک اہم تحقیقی حوالہ ثابت ہوگی۔
تقریب کے اختتام پر کتاب کی باضابطہ رونمائی کی گئی جبکہ شرکاء نے اس علمی کاوش کو پاکستان کے اسٹریٹجک بیانیے اور جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی مباحثے میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔