پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران تحریکِ طالبان پاکستان سے وابستہ ایک خطرناک دہشت گرد، واعظ احمد عرف مخلص کو اس کے دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا ہے۔
23 اپریل کو ہونے والی اس کارروائی میں مارا جانے والا واعظ احمد ولد غلام محمد، دراصل افغان شہری اور صوبہ وردک کے ضلع چک کے گاؤں بمبئی کا رہائشی تھا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان نژاد شدت پسند براہِ راست ملوث ہیں، جو سرحد پار سے آکر یہاں بدامنی پھیلاتے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق مخلص نامی یہ دہشت گرد پاکستان میں سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر ہونے والے متعدد حملوں میں مطلوب تھا اور اس کی ہلاکت کو ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
کے دوران سکیورٹی فورسز نے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معلومات کا بھرپور استعمال کیا جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے گروہ کو ان کے ٹھکانے پر ہی ختم کر دیا گیا۔ اس کارروائی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستانی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے ہمہ وقت تیار اور مستعد ہیں۔
اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ اس ہلاک شدہ دہشت گرد کے لیے افغانستان میں اس کے آبائی علاقے کی مقامی مسجد میں باقاعدہ تعزیتی اجتماع منعقد کیا گیا۔ 9 اور 10 مئی کو ہونے والی اس فاتحہ خوانی اور تعزیتی تقریب نے ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین کے درمیان موجود گہرے روابط کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
افغانستان میں اس سطح کی تقریب کا انعقاد ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی، اور یہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے کہ سرحد پار اب بھی دہشت گردوں کی کھلے عام پذیرائی کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے اعلیٰ حکام نے اس واقعے کے بعد ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان مسلسل افغان عبوری حکومت پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
ضلع خیبر میں ہونے والی یہ حالیہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر امن کی بحالی کے لیے ہر ممکنہ اقدام کرے گا اور ملک دشمن عناصر کا پیچھا ان کے انجام تک جاری رکھا جائے گا۔
دیکھئیے:سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ اسلام آباد خودکش حملے کی سازش ناکام، کم عمر لڑکی خیرالنساء بازیاب