بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی جانب سے معصوم بلوچ عوام کے خلاف جاری پرتشدد کاروائیوں کے لرزہ خیز حقائق سامنے آئے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ان تنظیموں نے اب تک 140 سے زائد ایسے بلوچ نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کیا ہے جنہوں نے ان کے دہشت گردانہ ایجنڈے کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا۔ یہ قتلِ عام ثابت کرتا ہے کہ بلوچستان کے اصل دشمن وہی عناصر ہیں جو ‘حقوق’ کے نام پر اپنے ہی بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں۔
حالیہ دہشت گردانہ کاروائیاں
رواں ماہ مئی کے دوران کوئٹہ میں ایک مسجد کے قریب اللہ بخش اور ہزار خان بنگلزئی کو سرِ عام شہید کیا گیا، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ اسی طرح نوشکی میں چار غریب مزدوروں کو اغوا کر کے ان کی مشینری کو آگ لگا دی گئی، جبکہ پنجگور میں حسن جان بلوچ اور کیچ میں ناصر بلوچ کو نشانہ بنایا گیا۔ تعلیمی اداروں کو بھی نہیں بخشا گیا؛ کالج ٹیچر عاصف سلیمانی کو صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے بی ایل اے کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا تھا۔
خواتین کا استحصال
دہشت گرد تنظیموں کے مکروہ عزائم اس وقت مزید واضح ہوئے جب بی ایل اے کی جانب سے ایک نوجوان بلوچ لڑکی کو سوشل میڈیا کے ذریعے ورغلا کر خودکش حملے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس معصوم لڑکی کو بچا لیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تنظیمیں کس طرح بلوچ روایات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خواتین کو اپنے ناپاک مقاصد کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
نسل کشی کا دوہرا معیار
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یورپ اور دیگر ممالک میں مقیم ان نام نہاد بلوچ رہنماؤں کا ہے جو انسانی حقوق کا واویلا تو کرتے ہیں، لیکن بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ہاتھوں ہونے والے اس قتلِ عام پر مکمل خاموش ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچ نوجوانوں کا یہ منظم قتلِ عام ہی اصل ‘نسل کشی’ ہے، جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور نام نہاد قوم پرستوں کی خاموشی ان کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے۔