"> بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی دہشت گردی بے نقاب، 140 سے زائد نوجوانوں پر حملوں کا انکشاف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی دہشت گردی بے نقاب، 140 سے زائد نوجوانوں پر حملوں کا انکشاف

بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ہاتھوں 140 سے زائد بلوچ نوجوانوں کے قتل نے نام نہاد حقوق کی تحریکوں کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ہاتھوں 140 سے زائد بلوچ نوجوانوں کے قتل نے نام نہاد حقوق کی تحریکوں کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔

بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی دہشت گردی کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں 140 سے زائد بلوچ نوجوانوں کے قتل کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مختلف حملوں میں شہریوں، مزدوروں اور ایک کالج ٹیچر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اغوا اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

May 12, 2026

بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی جانب سے معصوم بلوچ عوام کے خلاف جاری پرتشدد کاروائیوں کے لرزہ خیز حقائق سامنے آئے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ان تنظیموں نے اب تک 140 سے زائد ایسے بلوچ نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کیا ہے جنہوں نے ان کے دہشت گردانہ ایجنڈے کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا۔ یہ قتلِ عام ثابت کرتا ہے کہ بلوچستان کے اصل دشمن وہی عناصر ہیں جو ‘حقوق’ کے نام پر اپنے ہی بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں۔

حالیہ دہشت گردانہ کاروائیاں

رواں ماہ مئی کے دوران کوئٹہ میں ایک مسجد کے قریب اللہ بخش اور ہزار خان بنگلزئی کو سرِ عام شہید کیا گیا، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ اسی طرح نوشکی میں چار غریب مزدوروں کو اغوا کر کے ان کی مشینری کو آگ لگا دی گئی، جبکہ پنجگور میں حسن جان بلوچ اور کیچ میں ناصر بلوچ کو نشانہ بنایا گیا۔ تعلیمی اداروں کو بھی نہیں بخشا گیا؛ کالج ٹیچر عاصف سلیمانی کو صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے بی ایل اے کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا تھا۔

خواتین کا استحصال

دہشت گرد تنظیموں کے مکروہ عزائم اس وقت مزید واضح ہوئے جب بی ایل اے کی جانب سے ایک نوجوان بلوچ لڑکی کو سوشل میڈیا کے ذریعے ورغلا کر خودکش حملے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس معصوم لڑکی کو بچا لیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تنظیمیں کس طرح بلوچ روایات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خواتین کو اپنے ناپاک مقاصد کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

نسل کشی کا دوہرا معیار

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یورپ اور دیگر ممالک میں مقیم ان نام نہاد بلوچ رہنماؤں کا ہے جو انسانی حقوق کا واویلا تو کرتے ہیں، لیکن بی ایل اے اور بی ایل ایف کے ہاتھوں ہونے والے اس قتلِ عام پر مکمل خاموش ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچ نوجوانوں کا یہ منظم قتلِ عام ہی اصل ‘نسل کشی’ ہے، جس پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور نام نہاد قوم پرستوں کی خاموشی ان کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *