"> حبیب حکمتیار کا ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کی افغانستان میں موجودگی کا بڑا انکشاف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

حبیب حکمتیار کا ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کی افغانستان میں موجودگی کا بڑا انکشاف

حبیب حکمتیار نے تصدیق کر دی ہے کہ ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ امارتِ اسلامی کی پناہ میں ہیں اور افغان طالبان کے ارکان بھی پاکستان کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
حبیب حکمتیار نے تصدیق کر دی ہے کہ ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ امارتِ اسلامی کی پناہ میں ہیں اور افغان طالبان کے ارکان بھی پاکستان کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

افغان رہنماء حبیب حکمتیار کے بڑے انکشافات: ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ افغانستان میں مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

May 12, 2026

افغان سیاست دان حبیب حکمتیار نے ایک ویڈیو پیغام میں سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان اور حافظ گل بہادر گروپ کے تمام اہم رہنما اور ارکان اس وقت افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امارتِ اسلامی نے ان گروہوں کو نہ صرف پناہ دے رکھی ہے بلکہ وہ ان کی مکمل حفاظت اور سرپرستی بھی کر رہی ہے۔ یہ انکشاف پاکستان کے ان دیرینہ خدشات کی تصدیق کرتا ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانے ہی پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی اصل وجہ ہیں۔

طالبان کا پاکستان کے خلاف جنگ میں ملوث ہونا

ویڈیو میں حبیب حکمتیار نے یہ سنگین دعویٰ بھی کیا کہ افغان طالبان کے اپنے ارکان بھی ٹی ٹی پی کے صفوں میں شامل ہو کر پاکستان کے خلاف جنگ کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے اب چھپایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے ان ٹھکانوں کے خلاف کوئی بھرپور عسکری کارروائی کی تو یہ امارتِ اسلامی کے لیے ایک بڑا دفاعی اور سیاسی بحران ثابت ہو سکتا ہے۔

طالبان نظام کا مستقبل اور نیٹو کی عدم موجودگی

حبیب حکمتیار نے طالبان حکومت کے مستقبل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بیس سالہ دور میں افغان جمہوریت صرف اس لیے قائم رہ سکی کیونکہ اسے نیٹو افواج کی ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت حاصل تھی۔

اب صورتحال اس کے برعکس ہے طالبان کے پاس اپنے نظام کے دفاع کے لیے نہ تو وہ ٹیکنالوجی ہے اور نہ ہی وہ عالمی تعاون۔ ایسی صورت میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کا عسکری تصادم طالبان حکومت کے لیے انتہائی مہنگا ثابت ہوگا اور وہ بہت جلد معاشی و دفاعی طور پر کمزور ہو جائیں گے۔

سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر

اس بیان کے بعد علاقائی سفارت کاری میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حبیب حکمتیار کی جانب سے ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کی موجودگی کی تصدیق کے بعد کابل پر عالمی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *