افغان سیاست دان حبیب حکمتیار نے ایک ویڈیو پیغام میں سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان اور حافظ گل بہادر گروپ کے تمام اہم رہنما اور ارکان اس وقت افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امارتِ اسلامی نے ان گروہوں کو نہ صرف پناہ دے رکھی ہے بلکہ وہ ان کی مکمل حفاظت اور سرپرستی بھی کر رہی ہے۔ یہ انکشاف پاکستان کے ان دیرینہ خدشات کی تصدیق کرتا ہے کہ سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانے ہی پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی اصل وجہ ہیں۔
طالبان کا پاکستان کے خلاف جنگ میں ملوث ہونا
ویڈیو میں حبیب حکمتیار نے یہ سنگین دعویٰ بھی کیا کہ افغان طالبان کے اپنے ارکان بھی ٹی ٹی پی کے صفوں میں شامل ہو کر پاکستان کے خلاف جنگ کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے اب چھپایا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے ان ٹھکانوں کے خلاف کوئی بھرپور عسکری کارروائی کی تو یہ امارتِ اسلامی کے لیے ایک بڑا دفاعی اور سیاسی بحران ثابت ہو سکتا ہے۔
طالبان نظام کا مستقبل اور نیٹو کی عدم موجودگی
حبیب حکمتیار نے طالبان حکومت کے مستقبل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بیس سالہ دور میں افغان جمہوریت صرف اس لیے قائم رہ سکی کیونکہ اسے نیٹو افواج کی ٹیکنالوجی اور عسکری طاقت حاصل تھی۔
اب صورتحال اس کے برعکس ہے طالبان کے پاس اپنے نظام کے دفاع کے لیے نہ تو وہ ٹیکنالوجی ہے اور نہ ہی وہ عالمی تعاون۔ ایسی صورت میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کا عسکری تصادم طالبان حکومت کے لیے انتہائی مہنگا ثابت ہوگا اور وہ بہت جلد معاشی و دفاعی طور پر کمزور ہو جائیں گے۔
سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر
اس بیان کے بعد علاقائی سفارت کاری میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حبیب حکمتیار کی جانب سے ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کی موجودگی کی تصدیق کے بعد کابل پر عالمی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔