پاکستان واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے قابلِ اعتماد ثالث ہے۔ مصالحت کی کامیابی کا دارومدار ساکھ اور غیر جانبداری پر ہوتا ہے۔ سینیٹر گراہم جیسے سیاستدانوں کو شاید ایک مخلص ثالث قبول نہیں۔ وہ خطے میں امن کے بجائے مخصوص مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔

May 12, 2026

سہیل آفریدی اداروں کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہیں مگر اپنی کارکردگی پر خاموش ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات اور انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ صوبہ پچھلے تیرہ سال سے ایک ہی سیاسی سوچ کے زیرِ اثر ہے مگر نتائج صفر ہیں۔ ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا اب عوامی خدمت نہیں رہا۔ عوام کو احتجاجی کمیٹی نہیں بلکہ ایک فعال اور ذمہ دار حکومت کی ضرورت ہے۔

May 12, 2026

علینا ٹرین کا یہ رویہ وہی ہے جسے صدر ٹرمپ نے ہمیشہ ناپسند کیا۔ خود ٹرمپ نے ان کے منفی سوالات پر کئی بار عوامی سطح پر ٹوکا تھا۔ واشنگٹن کے مخصوص میڈیا حلقے ہر مثبت عمل کو منفی رنگ دیتے ہیں۔

May 12, 2026

واقعے کے فوری بعد طورخم بارڈر پر آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور دونوں اطراف سے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔

May 12, 2026

عدلیہ کے لیے یہ “منتخب احترام” کا رویہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی فریق اس دوغلی پالیسی سے باہر آئیں اور تسلیم کریں کہ انصاف نعروں یا مقبولیت کے بجائے صرف قانون کی زبان بولتا ہے۔

May 12, 2026

اس سے قبل بھی انگلینڈ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد کھلاڑیوں اور صحافیوں کو صرف اس لیے غیر ضروری اسکروٹنی اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی جڑیں پاکستان میں تھیں یا ان کی پہچان بطور مسلمان تھی۔

May 12, 2026

امریکی میڈیا کی جانب سے جانبداری کے الزامات مسترد؛ صدر ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ بننے والی رپورٹر کی جانب سے پاکستان کے مصالحتی کردار کو مشکوک بنانے کی کوشش ناکام

علینا ٹرین کا یہ رویہ وہی ہے جسے صدر ٹرمپ نے ہمیشہ ناپسند کیا۔ خود ٹرمپ نے ان کے منفی سوالات پر کئی بار عوامی سطح پر ٹوکا تھا۔ واشنگٹن کے مخصوص میڈیا حلقے ہر مثبت عمل کو منفی رنگ دیتے ہیں۔
پاکستان کا ثالثی کردار

پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ دونوں ممالک ایک خطرناک بحران میں پاکستان پر بھروسہ کر رہے ہیں۔

May 12, 2026

واشنگٹن: سی این این کی علینا ٹرین نے پاکستان کے مصالحتی کردار پر شکوک ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے گمنام امریکی حکام کے حوالے سے دعوے کیے۔ ان کا یہ انداز سنجیدہ صحافت کے بجائے سنسنی خیزی پر مبنی ہے۔ علینا ٹرین سفارت کاری کو صرف بیانات کی تلخی سے پرکھتی ہیں۔

پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ دونوں ممالک ایک خطرناک بحران میں پاکستان پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ علینا ٹرین کا یہ رویہ وہی ہے جسے صدر ٹرمپ نے ہمیشہ ناپسند کیا۔ خود ٹرمپ نے ان کے منفی سوالات پر کئی بار عوامی سطح پر ٹوکا تھا۔ واشنگٹن کے مخصوص میڈیا حلقے ہر مثبت عمل کو منفی رنگ دیتے ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول غیر جانبداری اور ساکھ ہوتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار نبھا رہا ہے۔ ہمارا مقصد خطے میں استحکام اور امن کی بحالی ہے۔ پاکستان عوامی سطح پر پوائنٹ اسکورنگ یا سستی شہرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اگر کوئی ثالث اپنا ایجنڈا مسلط کرے تو وہ ثالث نہیں رہتا۔

علینا ٹرین جیسے صحافی تزویراتی حقیقتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ ثالثوں کے گرد جان بوجھ کر شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ غیر جانبداری کو کمزوری سمجھنا ان کی بڑی فکری غلطی ہے۔ ایک کامیاب ثالث دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا پل بنتا ہے۔ پاکستان اسی اصول کے تحت ایک خطرناک تنازع کے حل کی کوشش کر رہا ہے۔

دیکھئیے:سی بی ایس کی رپورٹ گمراہ کن قرار، دفترِ خارجہ نے ایرانی طیاروں سے متعلق دعوے مسترد کر دیے

متعلقہ مضامین

پاکستان واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے قابلِ اعتماد ثالث ہے۔ مصالحت کی کامیابی کا دارومدار ساکھ اور غیر جانبداری پر ہوتا ہے۔ سینیٹر گراہم جیسے سیاستدانوں کو شاید ایک مخلص ثالث قبول نہیں۔ وہ خطے میں امن کے بجائے مخصوص مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔

May 12, 2026

سہیل آفریدی اداروں کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہیں مگر اپنی کارکردگی پر خاموش ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات اور انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ صوبہ پچھلے تیرہ سال سے ایک ہی سیاسی سوچ کے زیرِ اثر ہے مگر نتائج صفر ہیں۔ ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا اب عوامی خدمت نہیں رہا۔ عوام کو احتجاجی کمیٹی نہیں بلکہ ایک فعال اور ذمہ دار حکومت کی ضرورت ہے۔

May 12, 2026

واقعے کے فوری بعد طورخم بارڈر پر آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور دونوں اطراف سے اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔

May 12, 2026

عدلیہ کے لیے یہ “منتخب احترام” کا رویہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی فریق اس دوغلی پالیسی سے باہر آئیں اور تسلیم کریں کہ انصاف نعروں یا مقبولیت کے بجائے صرف قانون کی زبان بولتا ہے۔

May 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *