واشنگٹن: سی این این کی علینا ٹرین نے پاکستان کے مصالحتی کردار پر شکوک ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے گمنام امریکی حکام کے حوالے سے دعوے کیے۔ ان کا یہ انداز سنجیدہ صحافت کے بجائے سنسنی خیزی پر مبنی ہے۔ علینا ٹرین سفارت کاری کو صرف بیانات کی تلخی سے پرکھتی ہیں۔
پاکستان اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔ دونوں ممالک ایک خطرناک بحران میں پاکستان پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ علینا ٹرین کا یہ رویہ وہی ہے جسے صدر ٹرمپ نے ہمیشہ ناپسند کیا۔ خود ٹرمپ نے ان کے منفی سوالات پر کئی بار عوامی سطح پر ٹوکا تھا۔ واشنگٹن کے مخصوص میڈیا حلقے ہر مثبت عمل کو منفی رنگ دیتے ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول غیر جانبداری اور ساکھ ہوتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار نبھا رہا ہے۔ ہمارا مقصد خطے میں استحکام اور امن کی بحالی ہے۔ پاکستان عوامی سطح پر پوائنٹ اسکورنگ یا سستی شہرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اگر کوئی ثالث اپنا ایجنڈا مسلط کرے تو وہ ثالث نہیں رہتا۔
علینا ٹرین جیسے صحافی تزویراتی حقیقتوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ ثالثوں کے گرد جان بوجھ کر شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ غیر جانبداری کو کمزوری سمجھنا ان کی بڑی فکری غلطی ہے۔ ایک کامیاب ثالث دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا پل بنتا ہے۔ پاکستان اسی اصول کے تحت ایک خطرناک تنازع کے حل کی کوشش کر رہا ہے۔
دیکھئیے:سی بی ایس کی رپورٹ گمراہ کن قرار، دفترِ خارجہ نے ایرانی طیاروں سے متعلق دعوے مسترد کر دیے