"> افغانستان دہشت گردی اور منشیات کا گڑھ ہے: افغانستان میں 20 سے زائد گروپوں کے 23 ہزار جنگجو تاحال سرگرم، روسی سلامتی کونسل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان دہشت گردی اور منشیات کا گڑھ ہے: افغانستان میں 20 سے زائد گروپوں کے 23 ہزار جنگجو تاحال سرگرم، روسی سلامتی کونسل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ان میں سے صرف داعش کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 3000 کے قریب بتائی گئی ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
افغانستان دہشت گردی کا گڑھ

اس وقت افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں سے وابستہ 18 ہزار سے 23 ہزار کے قریب جنگجو سرگرم عمل ہیں۔

May 14, 2026

دہشت گردی اور منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرات

روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ اور افغان میڈیا آؤٹ لیٹ ’آماج نیوز‘ کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کی سلامتی کونسلوں کے سیکرٹریز کے 21 ویں اجلاس کے دوران روس نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر ایک تفصیلی اور تشویشناک رپورٹ پیش کی ہے۔ روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سیرگئی شوئیگو نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خطرات کے باعث افغانستان بدستور ایس سی او کے رکن ممالک کے لیے گہری تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

دہشت گرد گروہوں کی بھرمار اور جنگجوؤں کی تعداد

سیرگئی شوئیگو نے انکشاف کیا کہ اس وقت افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں سے وابستہ 18 ہزار سے 23 ہزار کے قریب جنگجو سرگرم عمل ہیں۔ ان میں سے صرف داعش کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 3000 کے قریب بتائی گئی ہے۔ روسی حکام کے مطابق یہ اعداد و شمار طالبان کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ افغان سر زمین پر دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

غیر ملکی جنگجوؤں کی شام سے افغانستان منتقلی

روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے غیر ملکی جنگجوؤں کی شام سے افغانستان منتقلی اور علاقائی انتہا پسندانہ انفراسٹرکچر کی توسیع پر بھی شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شام سے ایغور، تاجک اور ازبک عسکریت پسندوں کی افغانستان آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان جنگجوؤں کا تعلق ان گروہوں سے ہے جو ماضی میں ‘تحریر الشام’ جیسی دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔

مصنوعی منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کا مرکز

دہشت گردی کے ساتھ ساتھ افغانستان میں مصنوعی منشیات بالخصوص ‘میتھ امفیٹامین’ کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور سرحد پار اسمگلنگ نے بھی عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں اس خطرناک نشے کی تیاری میں تیزی آئی ہے اور سال 2025 کے دوران پڑوسی ممالک کے ساتھ افغان سرحدوں پر 30 ٹن سے زائد میتھ امفیٹامین قبضے میں لی گئی ہے۔

معاشی بحران اور منشیات کی کاشت کا تعلق

افغانستان میں جاری شدید معاشی بحران نے مقامی آبادی کو منشیات کے کاروبار کی طرف دھکیل دیا ہے۔ روسی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک کے خراب معاشی حالات کی وجہ سے تقریباً 40 لاکھ افراد منشیات کی کاشت اور اس سے متعلقہ کاموں میں ملوث ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

ماسکو کا علاقائی سلامتی سے متعلق اسیسمنٹ

روسی بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ماسکو اب بھی افغانستان سے وسطی ایشیا اور شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر خطوں میں سیکیورٹی کے پھیلاؤ کو روکنے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ماسکو کا اسیسمنٹ یہ بتاتا ہے کہ طالبان کے انسدادِ دہشت گردی کے دعوؤں کے باوجود افغانستان سے منسلک علاقائی سلامتی کے خطرات بدستور غیر حل شدہ ہیں۔ روس کے مطابق افغانستان اب بھی بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں اور انتہا پسند نیٹ ورکس کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔

دیکھئیے:افغانستان اور انڈیا کے درمیان 46 ملین ڈالر کے معاہدے پر سابق افغان وزیر کی کڑی تنقید

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *