باجوڑ: خیبر پختونخوا کے سرحدی ضلع باجوڑ کے علاقے لوئی ماموند میں سیکیورٹی فورسز نے فرنٹئیر کونسٹبلری کے دامنگی اسکاؤٹس کیمپ پر ہونے والے ایک پیچیدہ دہشت گرد حملے کو بھرپور جوابی کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، دہشت گردوں نے پہلے ایک خودکش دھماکہ کیا اور پھر مسلح ہو کر کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید جھڑپ شروع ہو گئی۔ سیکیورٹی فورسز کی مستعدی کے باعث اب تک 3 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے فرار ہونے والے دیگر شرپسندوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
اس شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایف سی کے 6 اہلکار زخمی ہوئے، جن کی شناخت لانس نائیک احمد، سپاہی احسان، حوالدار ارشاد، نائیک مسلم، لانس نائیک کفایت اور لانس نائیک وحید کے ناموں سے ہوئی ہے۔ تمام زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف آپریشن عزمِ استحکام کے تحت کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔
اس حملے کی سب سے اہم کڑی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے ذمہ داری کی باقاعدہ قبولیت ہے، جو کہ افغان طالبان کے خلاف ایک واضح چارج شیٹ تصور کی جا رہی ہے۔ باجوڑ ضلع کے لیے ٹی ٹی پی کے کمانڈر ملنگ باچا نے ایک آڈیو پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ دامنگی کیمپ پر یہ فدائی حملہ دراصل افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ہونے والے پاکستانی فضائی حملوں کا ردِعمل ہے۔ ملنگ باچا کا یہ بیان براہِ راست ثابت کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی نہ صرف افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے بلکہ اسے وہاں محفوظ پناہ گاہیں بھی میسر ہیں، جو کابل انتظامیہ کے ان دعوؤں کی قطعی نفی ہے کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔