سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سینئیر کشمیری رہنما فاروق عبداللہ نے زور دیا ہے کہ پاک بھارت تنازعات کے مستقل حل اور جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بامقصد بات چیت انتہائی ضروری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انہوں نے یہ بات سری نگر میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ خود بھارت کے اندر بااثر حلقوں کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط بحال کرنے کے حق میں حالیہ بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ یہ بیانات اس بڑھتے ہوئے احساس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ محاذ آرائی، ہٹ دھرمی اور مستقل دشمنی کے رویے سے خطے میں کبھی بھی استحکام نہیں لایا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے اندر سے اٹھنے والی سنجیدہ آوازیں بھی اب یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ دو جوہری پڑوسیوں کے درمیان موجودہ اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیری تعاون کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے مزید کہا کہ پرامن تعلقات اور دونوں ممالک کے عوام کا ایک دوسرے سے رابطہ ہی آگے بڑھنے کا واحد منطقی راستہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پالیسیوں کی حوصلہ شکنی کرے اور اس کے بجائے پاک بھارت مذاکرات اور سفارتی مشغولیت کی فعال حمایت کرے۔
دیکھئیے:مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی لہر: 31 روز میں خواتین سمیت 700 کشمیری گرفتار