تاشقند: ازبکستان اور چین نے ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک مل کر گرد و غبار اور ریت کے طوفانوں سے قبل از وقت آگاہی دینے والا ‘ارلی وارننگ سسٹم’ تیار کریں گے۔ ازبکستان کی قومی کمیٹی برائے ماحولیات اور ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق، یہ اہم فیصلہ ایک علاقائی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر ماحولیاتی امور کے لیے ازبک صدر کے مشیر عزیز عبدالحکیموف اور چین کے وزیرِ ماحولیات ہوانگ رن کیو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اب محض گفت و شنید تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ازبکستان نے ‘گرین یونیورسٹی’ میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کے اشتراک سے صحرا زدگی کے خاتمے اور صحرائی معیشت کی ترقی کے لیے قائم کردہ ‘سینٹرل ایشین ریجنل ریسرچ سینٹر’ کے لیے چین کے تکنیکی تعاون کو بھرپور سراہا، جو زمین کی زرخیزی کی بحالی اور تحقیق کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
چینی وزیرِ ماحولیات ہوانگ رن کیو کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا اشتراکِ عمل پہلے ہی ٹھوس نتائج دے رہا ہے، جس کی واضح مثال چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے ازبکستان میں کچرے سے بجلی پیدا کرنے والے 11 پلانٹس کی جاری تعمیر ہے۔ ازبک وفد نے ملاقات کے دوران چین کے موسمیاتی سیٹلائٹ سسٹمز سے استفادہ کرنے، ماحولیاتی مانیٹرنگ سینٹرز کے طریقہ کار کو سمجھنے، ہوا اور پانی کے معیار کی جانچ کے لیے مشترکہ لیبارٹری کے قیام اور ماحولیات پر ایک بین الاقوامی فورم کے انعقاد کی تجاویز بھی پیش کیں۔
چین نے ان تمام تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان پر فوری عملی کام شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس معاہدے کے تحت چین نہ صرف گرد و غبار کے طوفانوں سے نمٹنے کا اپنا کامیاب تجربہ اور ٹیکنالوجی ازبکستان کو منتقل کرے گا، بلکہ اپنے ماہرین اور سائنسدانوں کو بھی تربیت کے لیے تاشقند بھیجے گا، جبکہ ازبک ماہرین کو جدید تربیت کے لیے چین کا دورہ کرایا جائے گا تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا پائیدار مقابلہ کیا جا سکے۔
دیکھئیے:پاکستان اور آذربائیجان کا تجارتی اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم