تمام 31 متاثرہ افراد اس وقت اپنے وطن واپسی کے سفر پر گامزن ہیں۔ طے شدہ روٹ کے تحت یہ شہری سنگاپور سے پہلے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک پہنچے، جہاں سے پاکستانی ملاح اور مسافر اسلام آباد آنے والی پرواز میں سوار ہو چکے ہیں۔

May 15, 2026

تقریب میں ڈائریکٹر جنرل سپورٹس ملک شوکت حیات، ڈائریکٹر یوتھ اینڈ کلچر محمد نعمت اللہ عباسی، ڈائریکٹر سپورٹس افتخار صادق، اور صدر آل آزاد کشمیر فٹ بال ایسوسی ایشن مرزا امتیاز سمیت محکمہ کے اعلیٰ افسران، کھلاڑیوں اور شائقینِ فٹ بال کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

May 15, 2026

زلمے خلیل زاد بنیادی طور پر اس ناکام دوحہ سفارت کاری کے معمار ہیں جس نے طالبان حکومت کو سیاسی طور پر بحال کیا اور کابل میں ان کی دوبارہ واپسی کا راستہ ہموار کیا۔ آج جب ان کی اسی ناکام پالیسی کے بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں، تو وہ کابل انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے اور اپنی اس اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کرنے سے بری طرح بھاگ رہے ہیں۔

May 15, 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعتراف کیا کہ وہ ذاتی طور پر ایران کے ساتھ اس جنگ بندی کے حق میں بالکل نہیں تھے، لیکن پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کے باعث انہوں نے اس فیصلے کی توثیق کی۔

May 15, 2026

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی خدشات اس حد تک سنگین تھے کہ امریکی وفد کے ارکان اپنے ساتھ ذاتی الیکٹرانک ڈیوائسز بھی چین نہیں لے کر گئے تھے۔ وفد کے متعدد اراکین نے اپنے ذاتی فون اور لیپ ٹاپس امریکہ میں ہی چھوڑ دیے تھے

May 15, 2026

ازبکستان نے ‘گرین یونیورسٹی’ میں چینی اکیڈمی آف سائنسز کے اشتراک سے صحرا زدگی کے خاتمے اور صحرائی معیشت کی ترقی کے لیے قائم کردہ ‘سینٹرل ایشین ریجنل ریسرچ سینٹر’ کے لیے چین کے تکنیکی تعاون کو بھرپور سراہا، جو زمین کی زرخیزی کی بحالی اور تحقیق کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

May 15, 2026

زلمے خلیل زاد کی منافقت؛ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے چشم پوشی اور پاکستان کو صبر کی تلقین

زلمے خلیل زاد بنیادی طور پر اس ناکام دوحہ سفارت کاری کے معمار ہیں جس نے طالبان حکومت کو سیاسی طور پر بحال کیا اور کابل میں ان کی دوبارہ واپسی کا راستہ ہموار کیا۔ آج جب ان کی اسی ناکام پالیسی کے بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں، تو وہ کابل انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے اور اپنی اس اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کرنے سے بری طرح بھاگ رہے ہیں۔
زلمے خلیل زاد کی منافقت

زلمے خلیل زاد کے کابل کے ماہانہ دورے اور طالبان حکومت کے ساتھ ان کا واضح سیاسی افیئر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، اس لیے وہ طالبان پر دباؤ ڈالنے کی پوری صلاحیت رکھنے کے باوجود خاموش ہیں۔

May 15, 2026

واشنگٹن: افغانستان کے لیے امریکہ کے سابق خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حالیہ ٹی ٹی پی حملے پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کابل کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کی ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنے بیان میں افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور طالبان انتظامیہ کی جانب سے ان کی سرپرستی پر براہِ راست تنقید کرنے سے مکمل گریز کیا ہے، جسے ماہرین ان کی روایتی منافقت قرار دے رہے ہیں۔

ناکام دوحہ سفارت کاری کے معمار

سیاسی مبصرین کے مطابق زلمے خلیل زاد بنیادی طور پر اس ناکام دوحہ سفارت کاری کے معمار ہیں جس نے طالبان حکومت کو سیاسی طور پر بحال کیا اور کابل میں ان کی دوبارہ واپسی کا راستہ ہموار کیا۔ آج جب ان کی اسی ناکام پالیسی کے بھیانک نتائج سامنے آ رہے ہیں، تو وہ کابل انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے اور اپنی اس اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کرنے سے بری طرح بھاگ رہے ہیں۔

پاکستان کو نصیحت اور کابل سے محبت کا تضاد

پاکستانی اہلکاروں کی شہادت پر مگرمچھ کے آنسو بہانے اور اسلام آباد کو جوابی کارروائی سے روکنے کے لیے لیکچر دینے کے بجائے خلیل زاد کو چاہیے کہ وہ کابل میں بیٹھے اپنے مربیوں سے پوچھیں کہ وہ ان دہشت گردوں کو پناہ کیوں دے رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد کے کابل کے ماہانہ دورے اور طالبان حکومت کے ساتھ ان کا واضح سیاسی افیئر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، اس لیے وہ طالبان پر دباؤ ڈالنے کی پوری صلاحیت رکھنے کے باوجود خاموش ہیں۔

ٹی ٹی پی کا اعتراف اور خلیل زاد کا ہدف

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خود کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس بزدلانہ حملے کی ذمہ داری کھل کر قبول کی ہے، لیکن خلیل زاد نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کے بجائے اپنا پورا زور پاکستان کو روکنے پر لگا دیا ہے۔ ان کا یہ بیان طالبان حکومت کو جوابدہی سے بچانے اور پاکستان کے جائز دفاعی حق کو متاثر کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش نظر آتا ہے۔

افغانستان دہشت گردی کا گڑھ

طالبان کے دورِ حکومت میں افغانستان اس وقت 20 سے زائد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں انہیں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ کارروائیوں کے لیے آزادانہ ماحول بھی حاصل ہے۔ خلیل زاد خطے کے ممالک کو “امن” اور “مذاکرات” کا درس تو تواتر سے دیتے ہیں، لیکن وہ طالبان کی جانب سے دوحہ معاہدے کی ان سنگین خلاف ورزیوں پر مکمل طور پر خاموش ہیں جن میں وعدہ کیا گیا تھا کہ افغان سر زمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

طالبان کو تحفظ دینے کی کوشش

ماہرین کا کہنا ہے کہ جس شخص نے طالبان کی کابل واپسی کو ممکن بنایا، وہ آج افغان سرزمین سے پھوٹنے والی دہشت گردی کا سدِباب کرنے کے بجائے کابل انتظامیہ کو کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ اور جوابدہی سے بچانے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ خلیل زاد کا یہ ٹویٹ خطے کی تلخ سیکیورٹی حقیقتوں سے نظریں چرانے اور مظلوم کے بجائے ظالم کے سہولت کاروں کو تحفظ دینے کی ایک بدترین مثال ہے۔

دیکھئیے:ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن: 3 دہشت گرد جہنم واصل

متعلقہ مضامین

تمام 31 متاثرہ افراد اس وقت اپنے وطن واپسی کے سفر پر گامزن ہیں۔ طے شدہ روٹ کے تحت یہ شہری سنگاپور سے پہلے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک پہنچے، جہاں سے پاکستانی ملاح اور مسافر اسلام آباد آنے والی پرواز میں سوار ہو چکے ہیں۔

May 15, 2026

تقریب میں ڈائریکٹر جنرل سپورٹس ملک شوکت حیات، ڈائریکٹر یوتھ اینڈ کلچر محمد نعمت اللہ عباسی، ڈائریکٹر سپورٹس افتخار صادق، اور صدر آل آزاد کشمیر فٹ بال ایسوسی ایشن مرزا امتیاز سمیت محکمہ کے اعلیٰ افسران، کھلاڑیوں اور شائقینِ فٹ بال کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

May 15, 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعتراف کیا کہ وہ ذاتی طور پر ایران کے ساتھ اس جنگ بندی کے حق میں بالکل نہیں تھے، لیکن پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کے باعث انہوں نے اس فیصلے کی توثیق کی۔

May 15, 2026

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی خدشات اس حد تک سنگین تھے کہ امریکی وفد کے ارکان اپنے ساتھ ذاتی الیکٹرانک ڈیوائسز بھی چین نہیں لے کر گئے تھے۔ وفد کے متعدد اراکین نے اپنے ذاتی فون اور لیپ ٹاپس امریکہ میں ہی چھوڑ دیے تھے

May 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *