خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک منظم آپریشن کیا ہے۔ اس کاروائی کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، جس کے نتیجے میں 3 دہشت گرد ہلاک جبکہ پاک فوج کے 2 اہلکار ملک و قوم کی خاطر جامِ شہادت نوش کر گئے۔
آپریشن کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع ملنے پر علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاشی کا عمل شروع کیا تھا۔ اس دوران روپوش دہشت گردوں نے فورسز کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے بھرپور جوابی کاروائی کی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں تینوں دہشت گرد مارے گئے جن کی لاشیں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔
حفاظتی اقدامات
دہشت گردوں کے خلاف اس بہادرانہ کاروائی میں سکیورٹی فورسز کے 2 جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ واقعے کے فوری بعد علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر شرپسندوں کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔
دہشت گردی کے خلاف عزم
ضلع کرم میں حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وطنِ عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور شہدا کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دی جائیں گی۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت اور ان کے نیٹ ورک کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔