اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس میں بشریٰ بی بی کے طبی اور جیل حالات سے متعلق دائر کردہ حالیہ درخواست کو قانونی و سیاسی حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خالصتاً ایک سیاسی اسٹنٹ اور میڈیا سرخیوں کے حصول کی کوشش قرار دیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ متعلقہ حقائق پہلے ہی اعلیٰ عدالتی فورمز کے سامنے زیرِ سماعت ہیں، اس لیے سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی موجودگی میں این سی ایچ آر جیسے کمیشن کا رخ کرنا کوئی قانونی ضرورت نہیں بلکہ محض سیاسی تاثر سازی کا حصہ ہے۔ کوئی بھی انتظامی یا انسانی حقوق کا کمیشن ملک کی اعلیٰ آئینی عدالتوں کے دائرہ اختیار یا جیل قوانین کو بائی پاس نہیں کر سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اڈیالہ جیل کے حالات اور قیدیوں کی سہولیات سے متعلق اسی نوعیت کے الزامات پہلے بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیس میں بار بار اٹھائے جا چکے ہیں۔ اس سلسلے میں بیرسٹر سلمان صفدر کی سربراہی میں ایک باقاعدہ میڈیکل اور فیکٹ فائنڈنگ بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، جس نے اپنی تفصیلی رپورٹ عدالت عالیہ میں جمع کرائی اور معزز عدالت نے اس رپورٹ پر مکمل اطمینان کا اظہار بھی کیا۔
مزید برآں، گزشتہ ہفتے ہی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو کر جیل کے ماحول اور سیکیورٹی سے متعلق تازہ ترین رپورٹ پیش کی ہے۔ لہٰذا، اعلیٰ عدالتوں میں رپورٹس جمع ہونے کے بعد ایک ہی جیسے پرانے الزامات کو بار بار نئے فورمز پر ری سائیکل کرنے سے کوئی نیا قانونی مقدمہ قائم نہیں ہو جاتا۔
جہاں تک سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کے طبی معاملات یا بینائی سے متعلق خدشات کا تعلق ہے، تو اس کے لیے مروجہ جیل مینول اور قوانین میں ایک واضح اور جامع طریقہ کار پہلے سے موجود ہے۔ مروجہ قوانین کے تحت سب سے پہلے جیل کا متعلقہ ڈاکٹر قیدی کا باقاعدہ معائنہ کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اعلیٰ میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے مطابق قانون کے تحت کسی بھی سرکاری یا مخصوص اسپتال میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ ملک کا کوئی بھی شہری یا وی آئی پی قیدی قانون اور طے شدہ طریقہ کار سے بالاتر نہیں ہے، اور صرف کسی مخصوص جماعت کی سیاسی سہولت کے لیے مروجہ نظام کے متوازی کوئی نیا قانونی یا طبی ڈھانچہ تیار نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی و سیکیورٹی مبصرین کا کہنا ہے کہ این سی ایچ آر اس معاملے کا نہ تو مناسب فورم ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسا فوری اختیار ہے جس سے کوئی عملی حل نکل سکے۔ اگر درخواست گزار سینیٹرز کو واقعی کوئی حقیقی قانونی شکایت تھی تو ان کے لیے درست فورم اسلام آباد ہائی کورٹ ہے، لیکن اس کے بجائے معاملے کو جان بوجھ کر ایک ایسے کمیشن میں لے جایا گیا جس کا مقصد قانونی ریلیف حاصل کرنے سے زیادہ صرف سیاسی شور شرابا پیدا کرنا اور اداروں کو دباؤ میں لانا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے جو رہنما اور سینیٹرز ماضی میں اڈیالہ جیل نہ جانے یا اپنے قائدین سے دوری اختیار کرنے پر شدید اندرونی تنقید کا نشانہ بن رہے تھے، وہ اب اچانک ان پٹیشنز اور نمائشی تشویش کے ذریعے اپنے سیاسی آقا سے وفاداری ثابت کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ اقدامات کسی بھی طور پر انسانی حقوق کی حقیقی جدوجہد نہیں بلکہ پرفارمنس سیاست اور ‘لیگل تھیٹر’ کا حصہ ہیں، جس کا واحد مقصد عدالتی کارروائیوں کے متوازی میڈیا ہائپ بنانا اور ملکی اداروں کو بلاجواز بدنام کرنا ہے۔
دیکھئیے:سائفر تنازع: غیر ملکی مداخلت کے دعوے یا داخلی سیاسی بحران؟