"> ملک سکیورٹی بحران کا شکار، اپوزیشن کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی فکر
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کے پی میں دہشت گردانہ واقعات کے باوجود اپوزیشن کی توجہ اڈیالہ جیل احتجاج پر مرکوز

ملک میں دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کے باوجود تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی حکمتِ عملی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم اجلاس طلب کر لیا۔
ملک میں دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کے باوجود تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی حکمتِ عملی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم اجلاس طلب کر لیا۔

خیبر پختونخوا میں بدامنی اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کا پولیٹیکل سرکس؛ محمود خان اچکزئی کی صدارت میں اڈیالہ جیل کے باہر کل احتجاج کی پلاننگ شروع۔

May 19, 2026

ملک میں جاری سنگین سکیورٹی حالات اور دہشت گردی کی حالیہ لہر کے باوجود اپوزیشن اتحاد کی جانب سے سیاسی انتشار کو ترجیح دینے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف ملک کی سکیورٹی صورتحال انتہائی نازک ہے اور دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کا اقتدار کا تماشہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ اسی سلسلے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ایک اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے، جس کی صدارت محمود خان اچکزئی کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اب سے کچھ دیر بعد شروع ہونے والے اس اجلاس میں علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، شاہد خاقان عباسی، اسد قیصر اور اخونزادہ حسین یوسفزئی سمیت اپوزیشن کے دیگر جماعتوں کے رہنما شریک ہو رہے ہیں۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے حکمتِ عملی بنانا اور کل اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے مبینہ احتجاج کے بارے میں گفت و شنید کرنا ہے۔

ادارتی و عوامی حلقوں نے اس صورتحال کو ترجیحات کا بدترین بحران قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں روزانہ بے گناہ شہریوں کی لاشیں گر رہی ہیں، بنوں سے لے کر وزیرستان تک دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں، اور ہمارے پولیس اور پاک فوج کے جوان روزانہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، مگر یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ایک سزایافتہ قیدی کی خاطر ملاقاتوں اور احتجاج کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔

شدید تنقید کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، شاہد خاقان عباسی اور راجہ ناصر عباس جیسے لیڈران کو صوبے میں مرتے ہوئے بے گناہ شہری اور لہو لہان ہوتے ہوئے سیکیورٹی اہلکار نظر نہیں آتے؟ جہاں پورا صوبہ امن و امان کی آگ میں جل رہا ہے، وہاں پی ٹی آئی اور اس کے ہمنواؤں کو صرف “احتجاج احتجاج” کھیلنے کی سوجھی ہے۔

عوام اس وقت سکیورٹی اور سکون مانگ رہی ہے، جبکہ یہ سیاسی اشرافیہ بیرک نمبر 8 کے اسائنمنٹس پورے کرنے کے لیے قانون شکنی اور ملک میں انتشار پھیلانے پر تلی ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ یہ پولیٹیکل سرکس اب فوری بند ہونا چاہیے اور ریاست و عوام کا تحفظ پہلی ترجیح ہونی چاہیے، نہ کہ کسی قیدی کا سیاسی ایجنڈا۔

دیکھیے: ریاست ماں کی مانند ہے مگر دہشت گردوں کے لیے نہیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *