ملک میں جاری سنگین سکیورٹی حالات اور دہشت گردی کی حالیہ لہر کے باوجود اپوزیشن اتحاد کی جانب سے سیاسی انتشار کو ترجیح دینے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف ملک کی سکیورٹی صورتحال انتہائی نازک ہے اور دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کا اقتدار کا تماشہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ اسی سلسلے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ایک اہم اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے، جس کی صدارت محمود خان اچکزئی کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اب سے کچھ دیر بعد شروع ہونے والے اس اجلاس میں علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، شاہد خاقان عباسی، اسد قیصر اور اخونزادہ حسین یوسفزئی سمیت اپوزیشن کے دیگر جماعتوں کے رہنما شریک ہو رہے ہیں۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے حکمتِ عملی بنانا اور کل اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے مبینہ احتجاج کے بارے میں گفت و شنید کرنا ہے۔
ادارتی و عوامی حلقوں نے اس صورتحال کو ترجیحات کا بدترین بحران قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں روزانہ بے گناہ شہریوں کی لاشیں گر رہی ہیں، بنوں سے لے کر وزیرستان تک دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں، اور ہمارے پولیس اور پاک فوج کے جوان روزانہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، مگر یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ایک سزایافتہ قیدی کی خاطر ملاقاتوں اور احتجاج کی پلاننگ کی جا رہی ہے۔
شدید تنقید کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، شاہد خاقان عباسی اور راجہ ناصر عباس جیسے لیڈران کو صوبے میں مرتے ہوئے بے گناہ شہری اور لہو لہان ہوتے ہوئے سیکیورٹی اہلکار نظر نہیں آتے؟ جہاں پورا صوبہ امن و امان کی آگ میں جل رہا ہے، وہاں پی ٹی آئی اور اس کے ہمنواؤں کو صرف “احتجاج احتجاج” کھیلنے کی سوجھی ہے۔
عوام اس وقت سکیورٹی اور سکون مانگ رہی ہے، جبکہ یہ سیاسی اشرافیہ بیرک نمبر 8 کے اسائنمنٹس پورے کرنے کے لیے قانون شکنی اور ملک میں انتشار پھیلانے پر تلی ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ یہ پولیٹیکل سرکس اب فوری بند ہونا چاہیے اور ریاست و عوام کا تحفظ پہلی ترجیح ہونی چاہیے، نہ کہ کسی قیدی کا سیاسی ایجنڈا۔
دیکھیے: ریاست ماں کی مانند ہے مگر دہشت گردوں کے لیے نہیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان