"> حکومتی پیش رفت اور اربوں کے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود شٹر ڈاؤن کی ضد؛ شوکت نواز، سردار عمر اور امان اللہ کی سیاست پر سنجیدہ سوالات - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

حکومتی پیش رفت اور اربوں کے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود شٹر ڈاؤن کی ضد؛ شوکت نواز، سردار عمر اور امان اللہ کی سیاست پر سنجیدہ سوالات

حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔
کشمیر ہڑتال

ان تمام ٹھوس اقدامات اور مالیاتی ریلیف کے بعد بھی عوام کو دوبارہ سڑکوں پر لانا اور ہڑتالیں کرنا کسی پوشیدہ سیاسی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

May 19, 2026

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر تیز رفتار حکومتی پیش رفت اور اربوں روپے کے ریلیف پیکیج کے باوجود کمیٹی قیادت کی طرف سے 9 جون 2026 کو ہڑتال کی کال نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں نے اس کال کو عوامی حقوق کے بجائے چند مخصوص رہنماؤں کا ذاتی ایجنڈا، انتخابی دباؤ اور سیاسی دکانداری چمکانے کی کوشش قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔

حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔

بجلی کے بقایا جات پر سرچارجز کا مکمل خاتمہ کر کے انہیں 36 آسان اقساط میں تقسیم کیا گیا ہے اور 5 کلو واٹ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی نافذ کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ، کشمیر ہائی وے، ہاسپیٹل روڈ، اولڈ سیکرٹریٹ کی بحالی اور متعدد گرڈ اسٹیشنز جیسے اربوں روپے کے میگا پراجیکٹس اس وقت فزیبلٹی، ٹینڈرنگ اور وفاقی فورمز جیسے قانونی و انتظامی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام ٹھوس اقدامات اور مالیاتی ریلیف کے بعد بھی عوام کو دوبارہ سڑکوں پر لانا اور ہڑتالیں کرنا کسی پوشیدہ سیاسی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ شوکت نواز میر، سردار عمر اور امان اللہ جیسے رہنما فزیبلٹی اور قانونی مراحل کو جان بوجھ کر “حکومتی ناکامی” بنا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ ان کی احتجاجی سیاست زندہ رہ سکے۔

ہر ہڑتال کی قیمت صرف عام کشمیری مزدور کی دیہاڑی، تاجر کے کاروبار، طالب علم کی تعلیم اور مریض کے علاج کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ آزاد کشمیر کے باشعور عوام اب حقوق کی آڑ میں ہونے والے اس ‘سیاسی انتشار’ کو پہچان چکے ہیں اور وہ بدامنی کے بجائے خطے میں امن، استحکام اور قومی یکجہتی کے خواہاں ہیں۔

دیکھئیے:جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کی ہڑتال پر شدید تحفظات؛ مسائل کا حل ہڑتال نہیں بلکہ مذاکرات ہیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *