اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

صدر پزشکیان کا کہنا ہے ایران طاقت کی پوزیشن میں ہے، اب جنگ ختم کرنا بہتر ہو گا۔

August 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔

August 21, 2026

حکومتی پیش رفت اور اربوں کے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود شٹر ڈاؤن کی ضد؛ شوکت نواز، سردار عمر اور امان اللہ کی سیاست پر سنجیدہ سوالات

حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔
کشمیر ہڑتال

ان تمام ٹھوس اقدامات اور مالیاتی ریلیف کے بعد بھی عوام کو دوبارہ سڑکوں پر لانا اور ہڑتالیں کرنا کسی پوشیدہ سیاسی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

May 19, 2026

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر تیز رفتار حکومتی پیش رفت اور اربوں روپے کے ریلیف پیکیج کے باوجود کمیٹی قیادت کی طرف سے 9 جون 2026 کو ہڑتال کی کال نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سیاسی و سماجی حلقوں نے اس کال کو عوامی حقوق کے بجائے چند مخصوص رہنماؤں کا ذاتی ایجنڈا، انتخابی دباؤ اور سیاسی دکانداری چمکانے کی کوشش قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔

حکومت نے معاہدے کے تحت اب تک 177 ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں، جبکہ احتجاج کے دوران جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کے معاوضے ادا کیے جا چکے ہیں۔

بجلی کے بقایا جات پر سرچارجز کا مکمل خاتمہ کر کے انہیں 36 آسان اقساط میں تقسیم کیا گیا ہے اور 5 کلو واٹ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی نافذ کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ، کشمیر ہائی وے، ہاسپیٹل روڈ، اولڈ سیکرٹریٹ کی بحالی اور متعدد گرڈ اسٹیشنز جیسے اربوں روپے کے میگا پراجیکٹس اس وقت فزیبلٹی، ٹینڈرنگ اور وفاقی فورمز جیسے قانونی و انتظامی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام ٹھوس اقدامات اور مالیاتی ریلیف کے بعد بھی عوام کو دوبارہ سڑکوں پر لانا اور ہڑتالیں کرنا کسی پوشیدہ سیاسی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ شوکت نواز میر، سردار عمر اور امان اللہ جیسے رہنما فزیبلٹی اور قانونی مراحل کو جان بوجھ کر “حکومتی ناکامی” بنا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ ان کی احتجاجی سیاست زندہ رہ سکے۔

ہر ہڑتال کی قیمت صرف عام کشمیری مزدور کی دیہاڑی، تاجر کے کاروبار، طالب علم کی تعلیم اور مریض کے علاج کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ آزاد کشمیر کے باشعور عوام اب حقوق کی آڑ میں ہونے والے اس ‘سیاسی انتشار’ کو پہچان چکے ہیں اور وہ بدامنی کے بجائے خطے میں امن، استحکام اور قومی یکجہتی کے خواہاں ہیں۔

دیکھئیے:جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کی ہڑتال پر شدید تحفظات؛ مسائل کا حل ہڑتال نہیں بلکہ مذاکرات ہیں

متعلقہ مضامین

اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *