اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی عسکری قیادت کی گیدڑ بھبکیوں کا سخت اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر بھارت نے دوبارہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا پاکستان کو للکارنے کی کوشش کی، تو اس کا جغرافیہ بدل کر اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
بھارتی آرمی چیف کے حالیہ دھمکی آمیز بیان پر کڑا ردِعمل دیتے ہوئے وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ بھارت ماضی میں ملنے والی مار کو ابھی تک سہلا رہا ہے اور فروری 2019 کا سرپرائز ابھی تک نئی دہلی کو یاد ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا ایسا عبرت ناک جواب دیا جائے گا جس کا بھارت تصور بھی نہیں کر سکتا۔
خطے کی مجموعی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ کے تناؤ پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے ایران پر امریکہ یا اسرائیل کے ممکنہ حملوں کی افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر اب کسی بھی دوبارہ حملے کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ عالمی برادری اور خطے کے دیگر ممالک مزید کسی جنگ یا تنازع کے حق میں نہیں ہیں۔
ملکی سیاسی و آئینی معاملات اور قانون سازی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے الیکٹرانک میڈیا پر جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے 28 ویں آئینی ترمیم سے متعلق پوچھے گئے سوال پر دو ٹوک الفاظ میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں ابھی تک 28 ویں ترمیم کے حوالے سے کوئی بات چیت یا مشاورت نہیں ہوئی ہے۔