گلگت: پرنس رحیم الحسینی آغا خان کی گلگت بلتستان آمد نے پورے خطے کو جشن، بے پناہ محبت، بھائی چارے اور مذہبی رواداری کے خوبصورت رنگوں میں سجا دیا ہے۔ گلگت سے لے کر بلتستان تک اور دیامر سے لے کر ہنزہ کے پہاڑوں تک، ہر شہر، بازار اور شاہراہ اس وقت قومی اتحاد اور یکجہتی کا ایک شاندار منظر پیش کر رہی ہے۔
اس تاریخی اور روحانی دورے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس میں صرف اسماعیلی برادری ہی نہیں، بلکہ اہلِ سنت، اہلِ تشیع اور دیگر تمام مکاتبِ فکر کے لوگ بھی یکساں خوشی، جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ شریک ہیں، جو گلگت بلتستان کے پُرامن اور مہذب معاشرے کی ایک روشن مثال بن کر ابھرا ہے۔
سیاسی و سماجی مبصرین کے مطابق، پرنس رحیم آغا خان کا یہ دورہ فرقہ واریت، نفرت اور تقسیم کے منفی بیانیے کے خلاف ایک مضبوط اور واضح قومی پیغام بن چکا ہے۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر محبت، باہمی احترام اور مذہبی ہم آہنگی کی سرزمین ہے۔
خطے میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی جانب سے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، خواتین کی خودمختاری اور فلاحی شعبوں میں کی جانے والی دہائیوں پر محیط بے لوث خدمات نے یہاں کے عوام کے دلوں میں ایک خصوصی اور محترم مقام بنایا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس دورے کو پورے ملک میں انتہائی احترام اور قومی فخر کے جذبات کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
اس شاندار استقبال اور چراغاں نے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا ہے کہ گلگت بلتستان نہ صرف اپنے بے مثال قدرتی حسن کی وجہ سے مشہور ہے، بلکہ یہ خطہ امن، انسانیت دوستی، مذہبی رواداری اور مہمان نوازی کا بھی ایک عظیم مرکز ہے۔
تمام مکاتبِ فکر کے لوگوں کا ایک صف میں کھڑے ہو کر استقبال کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اتحاد اور باہمی احترام ہی اس خطے کی اصل اور حقیقی طاقت ہے، جس سے ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔