اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی اور سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک بار پھر عالمی سطح پر سرگرم جنگ پسند لابی، ڈراپ سائٹ متحرک ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں حالیہ دنوں میں امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ڈراپ سائٹ‘پر شائع ہونے والا طویل مضمون پاکستان کے خلاف منظم سفارتی حملوں اور زہریلے پروپیگنڈے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق، یہ مضمون کوئی غیر جانبدارانہ تجزیہ نہیں بلکہ ایک اعلیٰ معیار کا پراپیگینڈا ہے جسے صحافت کے بھیس میں پیش کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کے ثالثی کردار کو متنازع بنا کر مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر ہولناک جنگ کی آگ میں دھکیلا جا سکے۔
اس گھناؤنی مہم کا واحد مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے عمل کو ناکام بنانا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈال کر انہیں دوبارہ “آپریشن ایپک فیوری” شروع کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حامی لابی کسی بھی ایسے امن معاہدے سے خوفزدہ ہیں جو موجودہ ایرانی ریاست کو برقرار رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ثالثی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے مسلسل من گھڑت کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں، کیونکہ اگر پاکستان کی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو خطے میں جنگ کا آغاز خود بخود یقینی ہو جائے گا۔
تضادات کا مجموعہ اور ثالثی کی کامیابی کا ثبوت
’ڈراپ سائٹ‘ کا یہ طویل مضمون بنیادی طور پر شدید تضادات، من گھڑت مفروضوں اور صریح گمراہ کن معلومات سے بھرا ہوا ہے۔ مضمون نگار نے ایک جگہ ایرانی قومی سلامتی کے ترجمان کے مبینہ ٹوئٹ کا حوالہ دیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ایک موزوں ثالث نہیں ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ٹرمپ کے مفادات کو مدنظر رکھتا ہے، جبکہ اسی مضمون میں آگے چل کر یہ لکھا گیا کہ امریکہ میں اسرائیل نواز قوتیں ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ پاکستان کو ثالث کے طور پر ہٹایا جائے۔
قانونی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مضمون کا یہی تضاد دراصل پاکستان کی غیر جانبداری اور کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر دونوں فریقین (امریکہ اور ایران کے انتہا پسند عناصر) یہ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان ان کی مرضی کے مطابق سائیڈ نہیں لے رہا، تو یہ ایک حقیقی اور مخلص ثالث کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ کسی کا رخ کیے بغیر مکمل غیر جانبداری سے امن کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسرائیل نواز لابی اس غیر جانبداری سے خائف ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کے علاوہ دنیا میں متبادل ثالثی کا کوئی دوسرا مؤثر راستہ موجود نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کے بیانیے کا اندھا دھند استعمال اور سیاسی حقائق سے چشم پوشی
مضمون کا تفصیلی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ڈراپ سائٹ‘ نے حقائق کی تصدیق کیے بغیر یا واضح تضادات کو نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان کی جانب سے ملکی عسکری قیادت پر لگائے گئے الزامات کو جوں کا توں استعمال کیا ہے۔ مضمون میں استعمال ہونے والی زبان جیسے “2022 میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی برطرفی کی انجینئرنگ کرنا” ایسا تاثر دیتی ہے جیسے یہ آرٹیکل کسی آزاد صحافی نے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے پریس آفیشل نے خود تحریر کیا ہو۔
مضمون نگار نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2022 کے ان سیاسی حقائق کو یکسر مسترد کر دیا جو پوری دنیا کے سامنے آئے۔ عمران خان کی حکومت ایک انتہائی کمزور اکثریت والی اتحادی حکومت تھی جو 4 چھوٹی جماعتوں کے سہارے کھڑی تھی۔ حکومت کے پہلے ہی دن سے پی ڈی ایم کی بڑی جماعتوں (پی پی پی، مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف) نے سخت اپوزیشن کی۔ پہلے ہی سال مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ کیا، مریم نواز نے ملک گیر بڑے جلسے کیے اور بالاخر اتحادی جماعتوں نے حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کسی وزیرِ اعظم کو آئینی اور مکمل جمہوری طریقے سے “تحریکِ عدم اعتماد” کے ذریعے ہٹایا گیا۔ لیکن سابق وزیرِ اعظم نے اپنی سیاسی ناکامی کو چھپانے کے لیے اسے ’امریکی سازش‘، ’لندن پلان‘ اور ’اسٹیبلشمنٹ سازش‘ جیسے فرضی نام دیے۔
عسکری قیادت کے خلاف تاریخ اور وقت کے صریح تضادات
مضمون میں ملکی عسکری قیادت بالخصوص آرمی چیف کے خلاف زہر اگلتے وقت بنیادی تاریخوں اور وقت کے تضادات کو بھی نظرانداز کر دیا گیا۔ مضمون کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے نواز شریف کے ساتھ مل کر لندن میں عمران خان کو ہٹانے کا منصوبہ بنایا، عقلِ سلیم کے بالکل منافی ہے۔ عمران خان کو 9 اپریل 2022 کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تھا، جبکہ موجودہ آرمی چیف کی تعیناتی نومبر 2022 کے آخری ہفتے میں ہوئی۔ آرمی چیف بننے سے پہلے وہ فوج کے کوارٹر ماسٹر جنرل تھے، اور اس عہدے پر رہتے ہوئے ان کے پاس ایسی کوئی طاقت یا وسائل نہیں تھے کہ وہ منتخب حکومت کے خلاف کوئی سازش کر سکتے۔
اسی طرح مضمون میں یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا گیا کہ آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے “چند ماہ بعد” ہی انہوں نے عمران خان کو جیل بھیج دیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کو اگست 2023 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کی طرف سے توشہ خانہ کے طویل ترین کرپشن کیس میں باقاعدہ مجرم قرار دیے جانے اور سزا سنائے جانے کے بعد قانونی طور پر جیل بھیجا گیا۔ عدالتی فیصلوں کو عسکری قیادت کے کھاتے میں ڈالنا صحافتی بددیانتی کی انتہا ہے۔
پاکستانی نظامِ حکومت اور خارجہ پالیسی سے لاشعوری
’ڈراپ سائٹ‘ کا یہ دعویٰ بھی پاکستانی نظام کی بنیادی سمجھ بوجھ سے عاری ہے کہ موجودہ آرمی چیف کو ماضی میں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے اس لیے ہٹایا گیا تھا کیونکہ انہوں نے ایران کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر عمران خان کی مخالفت کی تھی۔ پاکستان کا مروجہ عسکری اور سیکیورٹی نظام کسی ایک فرد کی ذاتی خواہش پر نہیں چلتا۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ تمام تزویراتی اور سیکیورٹی امور پر ایک مربوط اور متحدہ پالیسی پر عمل پیرا ہوتی ہے، جس کی حتمی منظوری اس وقت کے آرمی چیف (جنرل باجوہ) دیتے ہیں۔ یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ کوئی بھی ڈی جی آئی ایس آئی اس وقت کے آرمی چیف کی مرضی کے بغیر ایران یا کسی دوسرے ملک سے متعلق متوازی یا انفرادی موقف اپنا سکے۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ معاشی چیلنجز اور روایتی حریف بھارت کی طرف سے درپیش سیکیورٹی خطرات کے باعث تمام سول اور ملکی حکومتوں نے ہمیشہ امریکہ کے ساتھ قریبی اور مضبوط تعلقات کے فروغ کی کوشش کی ہے۔ ڈراپ سائٹ نے اس روایتی اور ناگزیر خارجہ پالیسی کو ایک “خفیہ اور خطرناک گٹھ جوڑ” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ مضحکہ خیز ہے۔ پاکستان کی ہمیشہ سے یہ کامیاب حکمتِ عملی رہی ہے کہ وہ چین اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازی بنیادوں پر متوازن رکھتا ہے اور وہ کبھی بھی ایک ملک کے لیے دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات قربان نہیں کرتا۔ موجودہ حکومت کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کو جان بوجھ کر سست کرنے کے الزامات بھی سراسر من گھڑت، مفروضوں پر مبنی اور حقیقت سے دور ہیں۔
ایٹمی پروگرام سے متعلق زہریلا اور بے بنیاد پراپیگینڈا
اس مضمون کا سب سے خطرناک اور بدنیتی پر مبنی حصہ پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثوں اور نیوکلیئر پروگرام پر سوالات اٹھانا ہے۔ مضمون میں یہ جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کا کنٹرول اور کمانڈ کسی چیک اینڈ بیلنس کے بغیر براہِ راست آرمی چیف کے ہاتھ میں ہے۔
حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان کا نیوکلیئر کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر دنیا کے محفوظ ترین اور فول پروف سسٹمز میں شمار ہوتا ہے۔ ملک کے ایٹمی اثاثوں کی نگرانی کے لیے نیشنل کمانڈ اتھارٹی موجود ہے، جس کے چیئرمین ملک کے منتخب وزیرِ اعظم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسٹریٹجک اثاثوں کی باقاعدہ کمانڈ اور آپریشنل کنٹرول کے لیے فور اسٹار جنرل کی سربراہی میں نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کام کرتی ہے۔ اس قدر مربوط اور کثیر الجہتی کمانڈ سسٹم کی موجودگی میں یہ دعویٰ کرنا کہ اثاثے کسی ایک شخص کے رحم و کرم پر ہیں، صرف اور صرف پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر خوف اور سنسنی پھیلانے کی سازش ہے۔
مجموعی طور پر، ڈراپ سائٹ کا یہ آرٹیکل حقائق، تاریخ، لاجسٹکس اور سیکیورٹی سسٹمز کے تضادات کا ملغوبہ ہے، جس کا واحد مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر کے پاکستان کے عالمی وقار کو دھچکا پہنچانا اور جنگ پسند لابی کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
دیکھئیے:مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا غیر متزلزل مؤقف؛ مشرقِ وسطیٰ بحران میں اسلام آباد کا سفارتی کردار نمایاں