کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اپریل 2026 کے دوران چین پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک بن کر ابھرا ہے، جس نے 61 ملین ڈالر کی خالص سرمایہ کاری کی ہے۔ چین کے بعد ہانگ کانگ 27.6 ملین ڈالر اور متحدہ عرب امارات 25 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔
مالیاتی سال 2026 کے پہلے 10 مہینوں کے مجموعی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو چین مجموعی طور پر 739.6 ملین ڈالر کی نیٹ ایف ڈی آئی کے ساتھ پہلے نمبر پر برقرار ہے، جبکہ ہانگ کانگ 281.3 ملین ڈالر کے ساتھ دوسرے اور سوئٹزرلینڈ 169.9 ملین ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق، رواں مالیاتی سال کے پہلے 10 مہینوں میں ملک میں کل براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 1.41 ارب ڈالر رہا، جو گزشتہ مالیاتی سال کے اسی عرصے کے 2.04 ارب ڈالر کے مقابلے میں 30.78 فیصد کم ہے۔
جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، چین نے ان 10 مہینوں کے دوران پاکستان میں ہونے والی کل سرمایہ کاری کا بڑا حصہ یعنی 52.49 فیصد برقرار رکھا، تاہم گزشتہ سال کے 1.04 ارب ڈالر کے مقابلے میں چینی سرمایہ کاری میں مجموعی طور پر 28.95 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
اسی طرح ہانگ کانگ کا حصہ 19.96 فیصد (281.3 ملین ڈالر) رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 391.5 ملین ڈالر کے مقابلے میں 28.15 فیصد کم ہے۔ دوسری جانب، سوئٹزرلینڈ کی سرمایہ کاری میں 26.41 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور اس کا شیئر 12.06 فیصد رہا۔ دیگر بڑے سرمایہ کاروں میں متحدہ عرب امارات 168.9 ملین ڈالر اور برطانیہ 98.7 ملین ڈالر کے ساتھ نمایاں رہے۔
رپورٹ کے مطابق، فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ، جو ایکویٹی مارکیٹ میں براہِ راست اور بالواسطہ سرمایہ کاری کو ظاہر کرتی ہے، اپریل کے مہینے میں منفی 433.5 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی طور پر ان 10 مہینوں میں پورٹ فولیو انویسٹمنٹ میں 1.38 ارب ڈالر کا انخلاء دیکھا گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ انخلاء 575.3 ملین ڈالر تھا۔
برطانیہ رواں ماہ 13.9 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ سب سے بڑا پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کرنے والا ملک رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، اپریل کے مہینے میں ملک میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری 379 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ رواں مالیاتی سال کے پہلے 10 مہینوں میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری 31.7 ملین ڈالر رپورٹ ہوئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 1.46 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔