آزاد کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے ہی حساس اور پیچیدہ رہی ہے لیکن حالیہ دنوں میں حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ریاست متعدد انتظامی اور معاشی چیلنجز سے گزر رہی ہے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون 2026 کو ہڑتال کی نئی کال نے عام شہری کو ایک گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت اور کمیٹی کے مابین عوامی مطالبات پر ایک باقاعدہ معاہدہ طے پا چکا تھا اور اس پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا تھا، تو پھر اس نئی ہڑتال کا جواز کیا ہے؟
دستاویزی حقائق اور زمینی شواہد بتاتے ہیں کہ حکومت نے عوامی تحفظات کو دور کرنے کے لیے کئی اہم اور ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ مثال کے طور پر احتجاج کے دوران درج ہونے والی 177 ایف آئی آرز واپس لی جا چکی ہیں اور جاں بحق و زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کو 11 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد کا معاوضہ ادا کیا گیا ہے۔ معاشی محاذ پر، بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے 5 کلو واٹ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نفاذ، سرچارجز کا خاتمہ، اور بقایاجات کو 36 آسان اقساط میں تقسیم کرنا ایسے اقدامات ہیں جن سے براہِ راست عام آدمی کو فائدہ پہنچا ہے ۔ اس کے علاوہ ہیلتھ کارڈ کی سہولت کی توسیع اور انتظامی اصلاحات کے تحت کابینہ کا حجم 20 وزراء تک محدود کرنا بھی حکومتی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
لیکن چند تحریکوں کے پس پردہ کئی مقاصد ہوتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب عوامی تحریکیں اپنے ابتدائی معاشی یا انتظامی اہداف حاصل کر لیتی ہیں، تو ان کی قیادت کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ کامیابی کا اعلان کر کے پسِ پردہ چلی جائیں، یا پھر اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے نئے اور زیادہ سخت اور ناجائز مطالبات سامنے لے آئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت، جن میں شوکت نواز، سردار عمر اور امان اللہ جیسے نام شامل ہیں، اس وقت دوسرے راستے پر گامزن ہے۔ اب یہ کمیٹی اندرونی طور پر آئینی معاملات اور کشمیر کے پاکستان کے ساتھ تعلقات جیسے حساس موضوعات پر بحث کر رہی ہے، جو اس کے ابتدائی چارٹر آف ڈیمانڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔
بلاشبہ، کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔ جب اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے، جیسے ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینوں کی فراہمی، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، اور سڑکوں کی تعمیر، پی سی ون اور ٹینڈرنگ کے تکنیکی مراحل میں ہوں، تو ایسے میں مسلسل لاک ڈاؤن ان منصوبوں کو تیز کرنے کے بجائے مزید تاخیر کا شکار بنا دیتا ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام اس وقت ترقی، امن اور کھلے بازاروں کے خواہشمند ہیں ۔ انتخابی ماحول سے عین قبل ایک اور مصنوعی بحران پیدا کرنا عوامی مفاد سے زیادہ سیاسی دکان چمکانے اور ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ کشمیری عوام کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ اپنے مستقبل اور اپنے بچوں کی تعلیم کو چند رہنماؤں کی سیاسی انا اور شہرت کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھنے دیں گے، یا پھر ترقی اور استحکام کے راستے کا انتخاب کریں گے۔
دیکھیے: کے پی میں دہشت گردانہ واقعات کے باوجود اپوزیشن کی توجہ اڈیالہ جیل احتجاج پر مرکوز