بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے 18 اور 19 مئی 2026کو ہونے والے دورہ ناروے کے موقع پر کشمیریوں اور سکھوں سمیت پاکستانی برادری نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے ایک وسیع احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ تحریکِ کشمیر ناروے اور مختلف پاکستانی ڈائسپورا تنظیموں کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس احتجاج میں تقریباً 200سے 250 افراد شریک ہوئے، جن کا مقصد بھارتی حکومت (بی جے پی) کی جانب سے بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، آر ایس ایس کے انتہا پسند ہندوتوا ایجنڈے اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف اقدامات کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنا تھا۔
مودی کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ
نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے ہونے والے اس احتجاج میں مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی اور مودی حکومت کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ احتجاج کے اہم شرکاء اور مقررین میں صداقت علی (ڈائریکٹر الخدمت یورپ)، اخلاص احمد (ڈائریکٹر آئی سی سی ناروے)، شیخ خالد محمود اور نعیمت علی شاہ (خطیبمرکزی مسجد)، چودھری ناصر (جنرل سیکرٹری ٹی ای کے ناروے)، سابق لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ خالد محمود، راجہ عبدالمجید، منشا خان، ڈاکٹر مبشر بنارس، فور پارٹی ناروے کی لیڈر ماریئل لیرااند اور پی ٹی آئی ناروے کے صدر عمران بشیر شامل تھے۔
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کے مبینہ قتل اور مظالم میں ملوث ہے اور ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ناروے اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیر اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وزیر اعظم مودی کو جوابدہ بنائیں۔ مظاہرے کے دوران شرکاء نے “مودی دہشت گرد”، “بھارت، کشمیر چھوڑ دو” اور “گجرات کا قصاب” جیسے شدید نعرے لگائے۔
سکھ کارکنوں کا احتجاج
اسی دوران خالصتان تحریک سے وابستہ سکھ کارکنوں نے بھی مودی کے دورے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ ناروے کے شاہی محل میں وزیر اعظم مودی کو ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز “گرینڈ کراس” سے نوازے جانے پر سکھ برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مودی کو یہ اعزاز دینا دنیا بھر میں خالصتان نواز سکھوں کے خلاف بھارت کی مبینہ ٹارگٹڈ کاروائیوں اور کریک ڈاؤن کو جائز قرار دینے کے مترادف ہے، جو کہ انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کے سراسر منافی ہے۔ احتجاج کے دوران مشتعل سکھ مظاہرین نے خالصتان کے پرچم لہرائے، “مودی گو بیک” کے نعرے لگائے اور زمین پر بھارتی پرچم بچھا کر اسے پامال کیا۔ سکھ کارکنوں کا کہنا تھا کہ “گھر میں گھس کر مارنے” کا دعویٰ کرنے والے مودی آج خود سیکیورٹی کے سائے میں چھپنے پر مجبور ہیں۔
سوشل میڈیا مہم
مودی کے اس دورے کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی ایک منظم اور فعال مہم چلائی گئی جس میں بروشرز کے ذریعے عوامی آگاہی پیدا کی گئی اور دورے کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر آزادیِ صحافت کے حوالے سے بھی نارویجن میڈیا میں آوازیں اٹھیں۔ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے کے پہلے نمبر پر ہونے اور بھارت کے157 ویں نمبر پر ہونے کا موازنہ کرتے ہوئے صحافیوں نے کہا کہ مودی نے ان کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا، لیکن جمہوری ممالک کا یہ فرض ہے کہ وہ ان قوتوں سے سوال کریں جن کے ساتھ وہ تعاون بڑھا رہے ہیں۔ تحریکِ کشمیر ناروے نے واضح کیا ہے کہ وہ مختلف سیاسی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اشتراک سے اس آگاہی مہم کو مزید وسیع کریں گے۔
دیکھیے: مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا غیر متزلزل مؤقف؛ مشرقِ وسطیٰ بحران میں اسلام آباد کا سفارتی کردار نمایاں