تنازعات کے دور میں پاکستان کا اصولی اور متوازن اندازِ سفارت کاری دنیا بھر میں ایک معتبر راستے کے طور پر ابھرا ہے۔ تہران، واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان حالیہ شدید سفارتی و عسکری تناؤ کے تناظر میں، اسلام آباد نے کسی بھی قسم کی بلاک سیاست یا دھڑے بندی کا حصہ بننے کے بجائے کشیدگی میں کمی، پائیدار علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر زور دیا ہے۔ اس نپے تلے اور سنجیدہ طرزِ عمل نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار اور بالغ علاقائی قوت کے طور پر تسلیم کروایا ہے، بلکہ مسلم امہ کے اندر بھی اس تعمیری سفارت کاری اور مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کو وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔
مسئلہ فلسطین پر پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے بین الاقوامی قانون، انصاف کے اعلیٰ اصولوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مضبوطی سے قائم رہا ہے۔ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر مستقل مزاجی کے ساتھ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک ایسی آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی غیر متزلزل حمایت کی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف (یروشلم) ہو۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ بنیادی اور پائیدار اصول عارضی جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) دباؤ یا مفادات کے بجائے اخلاقیات، قانون اور عالمی برادری کے اجتماعی ضمیر کو ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان کا یہ واضح اور تاریخی مؤقف رہا ہے کہ جب تک فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کا منصفانہ حل تلاش نہیں کیا جاتا، تب تک مشرقِ وسطیٰ میں مستقل اور پائیدار امن کا حصول ناممکن ہے۔
پاکستان میں آنے والی تمام حکومتوں نے، قطع نظر ان کے سیاسی نظریات یا رجحانات کے، فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں ہمیشہ مکمل تسلسل اور یکسانیت برقرار رکھی ہے۔ پاکستان نے مسلسل غیر قانونی تسلط، بستیوں کی توسیع اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی کھل کر مخالفت کی ہے۔
اسلام آباد کی یہ سفارتی آواز اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ ایک مؤثر اور جاندار انداز میں گونجتی رہی ہے، جہاں اس نے احتساب، تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کے احترام کی وکالت کی ہے۔
موجودہ علاقائی بحران، بالخصوص امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ شدید تناؤ کے دوران، ریاستوں کے لیے ایک متوازن اور اصولی سفارتی پوزیشن برقرار رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے گریز کرتے ہوئے تحمل اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا ہے، جس سے مسلم دنیا کے اندر اس کے وقار اور قد کاٹھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
آج جب متعدد مسلم ممالک ایک ایسی معتبر اور متوازن قیادت کے متلاشی ہیں جو مسلم امہ کے جائز حقوق کا تحفظ بھی کر سکے اور امن کی وکالت کا ظرف بھی رکھتی ہو، تو پاکستان ایک نمایاں اور قابلِ اعتماد آواز بن کر سامنے آیا ہے۔ تناؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی پہنچ اور مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کو عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
یہ ابھرتی ہوئی سفارتی ساکھ اور بڑھتی ہوئی اہمیت اب پاکستان کو ایک وسیع تر اخلاقی اور سیاسی میدان فراہم کرتی ہے کہ وہ جبر یا یکطرفہ اقدامات کے برعکس، پرامن ذرائع اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے عالمی رائے عامہ کو مزید مؤثر انداز میں متحرک کرے۔
پاکستان اس پوزیشن میں آ چکا ہے کہ وہ اپنے اس تزویراتی اثر و رسوخ کو مسلم ممالک میں اتحاد پیدا کرنے اور ایک ایسے پائیدار حل کے لیے بامقصد مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کرے جو فلسطینی عوام کے حقوق، وقار اور سلامتی کی مکمل ضمانت دیتا ہو۔ پاکستان خطے اور عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے فلسطین کی حمایت کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کرنے کے عزم پر قائم ہے، اور انصاف، بین الاقوامی قانون اور اجتماعی سلامتی کا یہ عزم اس کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ رہے گا۔