بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ ناروے کے دوران آزادیِ صحافت پر سوال پوچھنے کی کوشش کرنے والی نامور نارویجن صحافی ہیلے لنگ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مبینہ طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ خاتون صحافی نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس پر اپنے معطل شدہ اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے اس کارروائی کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دن بھر اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرتی رہیں، جس کے بعد بالاخر انسٹاگرام انتظامیہ کی جانب سے ان کا اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا۔
آزادیٔ صحافت کی قیمت
ہیلے لنگ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس سنسرشپ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں اس قسم کے رویے کا سامنا پہلے کبھی نہیں کیا۔ انہوں نے اس معطلی کو آزادیٔ صحافت اور حقِ سچ کی آواز بلند کرنے کے لیے ایک “چھوٹی سی قیمت” قرار دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی صحافیوں کو بھی مودی حکومت سے متعلق حساس موضوعات پر بات کرنے کی پاداش میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہندوتوا اثر و رسوخ
اس واقعے کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین، ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین اور عالمی مبصرین کی جانب سے شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے یہ سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ یہ کارروائی مبینہ طور پر بھارتی انتظامیہ کے دباؤ یا سوشل میڈیا کمپنیوں کے مانیٹرنگ سیلز میں موجود ہندوتوا اور مودی نواز عناصر کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اندر موجود مخصوص نیٹ ورک کو استعمال کر کے مودی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا جا رہا ہے۔
جمہوریت پر سوالیہ نشان
مبصرین نے اس اقدام کو آزادیِ اظہارِ رائے اور بین الاقوامی صحافت پر ایک بڑا حملہ قرار دیا ہے۔ یہ موقف اپنایا جا رہا ہے کہ ایک طرف بھارت خود کو دنیا کی “سب سے بڑی جمہوریت” کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن دوسری طرف اس کے سربراہِ مملکت سے محض پریس فریڈم پر سوال اٹھانے کی کوشش پر ایک عالمی صحافی کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کروا دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے خلاف اٹھنے والے سوالات کو عالمی سطح پر سینسر کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتی ہے۔
دیکھیے: مودی کے دورۂ ناروے پر اوسلو میں کشمیری، سکھ اور نارویجن تنظیموں کا شدید احتجاج