"> مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ضروری ہے، چینی اور روسی صدور کی ملاقات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور مذاکرات ناگزیر ہیں: چینی صدر

بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں شی جن پنگ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی، عالمی گورننس اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں شی جن پنگ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی، عالمی گورننس اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی بیجنگ میں اسٹریٹجک ملاقات؛ مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی روکنے اور منصفانہ عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر پر اتفاق۔

May 20, 2026

چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بیجنگ کے تاریخی گریٹ ہال آف پیپل میں ایک اہم اور اسٹریٹجک ملاقات ہوئی ہے۔ روسی صدر پیوٹن اپنے سرکاری دورے پر چین پہنچے، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ہونے والی اس گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، معاشی شراکت داری اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال سمیت اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مشرقِ وسطیٰ اور معیشت

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے زور دیا کہ خطے میں مذاکرات اس وقت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں اور جاری لڑائی کو روکنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے نہ صرف عالمی توانائی کی سپلائی میں استحکام آئے گا بلکہ بین الاقوامی تجارتی نظام میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔ اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یقین دہانی کروائی کہ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران کے باوجود روس دنیا کے لیے ایک قابلِ اعتماد توانائی فراہم کنندہ کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

منصفانہ عالمی گورننس

چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور روس کو مل کر ایک منصفانہ، متوازن اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کی کامیابی کی بنیاد سیاسی باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کو ایک دوسرے کی ترقی اور معاشی بحالی میں بڑھ چڑھ کر مدد کرنی چاہیے۔

غیر معمولی تعلقات

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دوطرفہ تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ روس اور چین کے تعلقات اس وقت غیر معمولی سطح پر ہیں اور دونوں ممالک کے مابین اقتصادی روابط مثبت رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس اور چین کے مستحکم تعلقات عالمی استحکام کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ ملاقات کے اختتام پر صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ کو اگلے سال روس کا سرکاری دورہ کرنے کی باقاعدہ دعوت بھی دی۔

دیکھیے: امریکی صدر ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن بھی چین پہنچ گئے؛ مختلف سفارتی پروٹوکولز اور تزویراتی تعلقات کا موازنہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *