پشاور/ اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے بند سی این جی اسٹیشنز کو دوبارہ کھولنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت کے مابین مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو گئے ہیں۔
ایک اہم اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی حکومت نے صوبے کو یومیہ 35 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کرنے کی باقاعدہ یقین دہانی کرا دی ہے، جس کے بعد صوبے بھر میں سی این جی اسٹیشنز کو فوری طور پر گیس کی ترسیل شروع کر دی جائے گی۔
سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، اس اہم بیٹھک میں وفاقی وزراء علی پرویز ملک اور رانا ثناء اللہ، گورنر خیبر پختونخوا اور صوبائی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد نے شرکت کی۔
طے پانے والے نئے فارمولے کے تحت خیبر پختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز اب روزانہ صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے۔ مشیرِ خزانہ خیبر پختونخوا نے اس پیشرفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی مسلسل کاوشوں کی بدولت گیس کا یہ دیرینہ اور سنگین مسئلہ حل ہوا ہے اور وفاق نے گیس بحالی کی منظوری دے دی ہے، جس سے ٹرانسپورٹرز اور عوام کو بڑا ریلیف ملے گا۔
اس مثبت سفارتی اور انتظامی پیشرفت کے ساتھ ہی، وفاقی حکومت نے بین الصوبائی ہم آہنگی اور عوامی سہولت کو مزید بہتر بنانے کے لیے پنجاب حکومت کو بھی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
وفاق نے پنجاب انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ وہ دوسرے صوبوں کو آٹے اور گندم کی سپلائی اور ترسیل کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرے تاکہ ملک بھر میں غذائی اجناس کی فراہمی بلا تعطل جاری رہ سکے۔ تجزیہ کاروں نے وفاق اور صوبے کے مابین اس تعاون کو عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے۔