قبائلی ضلع باجوڑ میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مشترکہ سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ ٹارگٹڈ آپریشن باجوڑ کی تحصیل وڈاماموند اور اس کے گردونواح کے حساس علاقوں میں جاری ہے، جس کا مقصد علاقے کو دہشت گرد عناصر سے پاک کرنا اور امن و امان کی صورتحال کو بحال کرنا ہے۔
پاک افغان امور کے ماہر طاہر خان کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ‘انعام خوارو چیناگئی’ کے مقام پر سکیورٹی فورسز اور مسلح دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد جنگجوؤں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حالیہ دنوں میں ضلع باجوڑ میں پرتشدد واقعات کے سلسلے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
#Bajaur #operation: Official sources say a joint search operation is being conducted in parts of Bajaur tribal district following recent attacks. The operation was launched in Tehsil Wada Mamond and surrounding areas. Sources said an exchange of fire also took place between… pic.twitter.com/IsRKjUPWJR
— Tahir Khan (@taahir_khan) May 22, 2026
واضح رہے کہ گزشتہ 15 مئی کو ٹی ٹی پی کی جانب سے کیے گئے ایک مہلک حملے میں کم از کم 8 اہلکار شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے، جبکہ 22 مئی کو ایک مبینہ ڈرون حملے میں اسکول کے 2 بچے جاں بحق ہوئے تھے، جس پر مقامی آبادی اور ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق سکیورٹی فورسز کا یہ حالیہ سخت ایکشن دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور مقامی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عزمِ صمیم کا حصہ ہے۔ علاقے میں تاحال سرچ آپریشن پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر کے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دیکھیے: فتنہ الخوارج ٹوٹ پھوٹ کا شکار؛ گل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی کا اتحاد ختم ہونے کے قریب