کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے منحرف دھڑے جماعت الاحرار کے مابین اندرونی اختلافات اب انتہائی سنگین اور شدت اختیار کر گئے ہیں۔ دونوں گروپوں کے درمیان بالادستی کی یہ جنگ اب ایک دوسرے کے خلاف خونریز کاروائیوں کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس سے خطے میں عسکریت پسند تنظیموں کے مابین شدید پھوٹ واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔
مستند ذرائع اور میڈیا چینلز کے مطابق ان بڑھتے ہوئے اختلافات کے نتیجے میں ضلع کرم میں جماعت الاحرار کے 18 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے ایک باقاعدہ میڈیا بیان جاری کرتے ہوئے تحریکِ طالبان پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر جماعت الاحرار کے سینئر کمانڈر ممتاز امتی اور ان کے ارکان کو نشانہ بنا کر قتل کیا ہے۔
ترجمان اسد منصور نے اس واقعے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کو سنگین نتائج اور سخت ترین انتقامی کاروائیوں کی کھلی وارننگ دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں دھڑوں میں مصالحت کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔

عسکری ذرائع سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں ایک اور اہم ترین نام کمانڈر بشار کا بھی سامنے آیا ہے، جو ماضی کے مرکزی کمانڈر مفتی حسن کے بھائی ہیں۔ واضح رہے کہ مفتی حسن 2014 میں داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کے قیام کے بانی ارکان میں شامل تھے اور بعد ازاں اگست 2022 میں جماعت الاحرار کے بانی عمر خالد خراسانی کے ہمراہ ایک دھماکے میں مارے گئے تھے۔ اب ان کے بھائی کمانڈر بشار کی ٹی ٹی پی کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت نے اس آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق کمانڈر ممتاز امتی اور کمانڈر بشار جیسی اہم شخصیات کا مارا جانا اور اس کے بعد آنے والا سخت ترین ردعمل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان گروپوں کے مابین مسلح تصادم اور اندرونی جنگ مزید ہولناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔
دیکھیے: فتنہ الخوارج ٹوٹ پھوٹ کا شکار؛ گل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی کا اتحاد ختم ہونے کے قریب