لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

عسکریت پسندوں میں شدید پھوٹ؛ جماعت الاحرار کا ٹی ٹی پی پر 18 ارکان کے قتل کا الزام

عسکریت پسند تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے مابین اندرونی اختلافات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے بعد دونوں گروپوں میں باقاعدہ تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
عسکریت پسند تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے مابین اندرونی اختلافات انتہائی شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے بعد دونوں گروپوں میں باقاعدہ تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

کالعدم ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے اختلافات شدت اختیار کر گئے، کُرم میں 18 عسکریت پسندوں کی ہلاکت پر جے یو اے نے ٹی ٹی پی کو دھمکی دے دی۔

May 22, 2026

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے منحرف دھڑے جماعت الاحرار کے مابین اندرونی اختلافات اب انتہائی سنگین اور شدت اختیار کر گئے ہیں۔ دونوں گروپوں کے درمیان بالادستی کی یہ جنگ اب ایک دوسرے کے خلاف خونریز کاروائیوں کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس سے خطے میں عسکریت پسند تنظیموں کے مابین شدید پھوٹ واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔

مستند ذرائع اور میڈیا چینلز کے مطابق ان بڑھتے ہوئے اختلافات کے نتیجے میں ضلع کرم میں جماعت الاحرار کے 18 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے ایک باقاعدہ میڈیا بیان جاری کرتے ہوئے تحریکِ طالبان پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر جماعت الاحرار کے سینئر کمانڈر ممتاز امتی اور ان کے ارکان کو نشانہ بنا کر قتل کیا ہے۔

ترجمان اسد منصور نے اس واقعے پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کو سنگین نتائج اور سخت ترین انتقامی کاروائیوں کی کھلی وارننگ دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں دھڑوں میں مصالحت کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔

عسکری ذرائع سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں ایک اور اہم ترین نام کمانڈر بشار کا بھی سامنے آیا ہے، جو ماضی کے مرکزی کمانڈر مفتی حسن کے بھائی ہیں۔ واضح رہے کہ مفتی حسن 2014 میں داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کے قیام کے بانی ارکان میں شامل تھے اور بعد ازاں اگست 2022 میں جماعت الاحرار کے بانی عمر خالد خراسانی کے ہمراہ ایک دھماکے میں مارے گئے تھے۔ اب ان کے بھائی کمانڈر بشار کی ٹی ٹی پی کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت نے اس آگ کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق کمانڈر ممتاز امتی اور کمانڈر بشار جیسی اہم شخصیات کا مارا جانا اور اس کے بعد آنے والا سخت ترین ردعمل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان گروپوں کے مابین مسلح تصادم اور اندرونی جنگ مزید ہولناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔

دیکھیے: فتنہ الخوارج ٹوٹ پھوٹ کا شکار؛ گل بہادر گروپ اور ٹی ٹی پی کا اتحاد ختم ہونے کے قریب

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *