علاقائی اور عالمی تزویراتی منظرنامے پر پاکستان کی فعال سفارت کاری کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، جس کے باعث خطے میں ملک کی سفارتی اہمیت اور ساکھ دوبارہ مستحکم ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس مودی کی زیرِ قیادت بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف بیانیے، میڈیا اسٹیجنگ اور حد سے زیادہ قوم پرستانہ مظاہروں پر مبنی خارجہ پالیسی اب خود نئی دہلی کے لیے سفارتی تنہائی کا سبب بنتی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت طویل عرصے سے ٹیلی وژن کی نمائش، سینہ ٹھوک دعوؤں اور پاکستان مخالف جذبات کو مصنوعی انداز میں بڑھاوا دینے میں مصروف ہے، تاہم اب خود بھارت کے اندر سے اس بیانیے کی حدود اور ناکامی پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ ایک پُراعتماد ریاست کے طور پر پاکستان نے پروپیگنڈا کی بجائے عملی سفارت کاری کو ترجیح دی اور اہم علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ازسرِنو استوار کیا۔
پاکستان اس وقت خلیجی ممالک، چین، ایران، کثیرالجہتی فورمز اور عالمی طاقتوں کے ساتھ بحران مینجمنٹ اور اسٹریٹجک روابط کے ذریعے انتہائی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پائیدار حکمتِ عملی نے بھارت کو سفارتی طور پر محدود کر دیا ہے، اور نئی دہلی کی پالیسی سازی اب رفتہ رفتہ اسی سفارتی راستے کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو رہی ہے جسے وہ ماضی میں یکسر مسترد کرتی رہی تھی۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرaپیگنڈا پر مبنی حکمتِ عملی رکھنے والی ریاستیں ٹی وی مباحثوں میں تو بلند آواز رکھتی ہیں، مگر پسِ پردہ وہ ہمیشہ سفارتی راستے ہی تلاش کرتی نظر آتی ہیں۔ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اب داخلی اور خارجی سطح پر دباؤ کا شکار ہے، جبکہ پاکستان خطے میں توازن اور استحکام کے ایک اہم محور کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
دیکھیے: بنگلہ دیش کا بڑا فیصلہ؛ سول سرونٹس کی ٹریننگ بھارت سے پاکستان منتقل