لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

خلیجی ممالک، چین اور ایران سے اسٹریٹجک روابط: پاکستان کا سفارتی استحکام اور بھارت کی تنہائی

مودی حکومت کے بیانیے کے برعکس پاکستان نے عالمی و علاقائی روابط مضبوط کر کے اپنی سفارتی اہمیت بحال کی ہے، جس سے بھارت میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
مودی حکومت کی پاکستان مخالف اور میڈیا پر مبنی خارجہ پالیسی کے برعکس پاکستان نے اہم عالمی و علاقائی شراکت داروں کے ساتھ روابط بحال کر کے خطے میں اپنی سفارتی اہمیت کو دوبارہ مستحکم کر لیا ہے، جس سے بھارت کے اندر بھی نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

بھارت کی جانب سے ٹیلی وژن نمائش اور پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینے کی حکمتِ عملی کے مقابلے میں پاکستان نے خلیجی ممالک، چین اور ایران کے ساتھ اسٹریٹجک روابط کے ذریعے خطے میں اپنی سفارتی بالادستی اور اہمیت کو دوبارہ بحال کر لیا ہے۔

May 22, 2026

علاقائی اور عالمی تزویراتی منظرنامے پر پاکستان کی فعال سفارت کاری کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، جس کے باعث خطے میں ملک کی سفارتی اہمیت اور ساکھ دوبارہ مستحکم ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس مودی کی زیرِ قیادت بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف بیانیے، میڈیا اسٹیجنگ اور حد سے زیادہ قوم پرستانہ مظاہروں پر مبنی خارجہ پالیسی اب خود نئی دہلی کے لیے سفارتی تنہائی کا سبب بنتی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت طویل عرصے سے ٹیلی وژن کی نمائش، سینہ ٹھوک دعوؤں اور پاکستان مخالف جذبات کو مصنوعی انداز میں بڑھاوا دینے میں مصروف ہے، تاہم اب خود بھارت کے اندر سے اس بیانیے کی حدود اور ناکامی پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ ایک پُراعتماد ریاست کے طور پر پاکستان نے پروپیگنڈا کی بجائے عملی سفارت کاری کو ترجیح دی اور اہم علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ازسرِنو استوار کیا۔

پاکستان اس وقت خلیجی ممالک، چین، ایران، کثیرالجہتی فورمز اور عالمی طاقتوں کے ساتھ بحران مینجمنٹ اور اسٹریٹجک روابط کے ذریعے انتہائی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پائیدار حکمتِ عملی نے بھارت کو سفارتی طور پر محدود کر دیا ہے، اور نئی دہلی کی پالیسی سازی اب رفتہ رفتہ اسی سفارتی راستے کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو رہی ہے جسے وہ ماضی میں یکسر مسترد کرتی رہی تھی۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرaپیگنڈا پر مبنی حکمتِ عملی رکھنے والی ریاستیں ٹی وی مباحثوں میں تو بلند آواز رکھتی ہیں، مگر پسِ پردہ وہ ہمیشہ سفارتی راستے ہی تلاش کرتی نظر آتی ہیں۔ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اب داخلی اور خارجی سطح پر دباؤ کا شکار ہے، جبکہ پاکستان خطے میں توازن اور استحکام کے ایک اہم محور کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

دیکھیے: بنگلہ دیش کا بڑا فیصلہ؛ سول سرونٹس کی ٹریننگ بھارت سے پاکستان منتقل

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *