بنگلہ دیش نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک انتہائی اہم اور تزویراتی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے اپنی سول سروس کے اعلیٰ افسران کا تربیتی پروگرام بھارت سے پاکستان منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس تاریخی فیصلے کے تحت بنگلہ دیش کے 12 سینئر بیوروکریٹس پر مشتمل پہلا وفد اس وقت لاہور کی سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) میں باقاعدہ تربیت حاصل کر رہا ہے۔ ڈھاکہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ برسوں پرانے تربیتی نظام کو عارضی طور پر معطل کر کے پاکستان کے ساتھ اس نوعیت کا اشتراکِ عمل سفارتی محاذ پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اہم ترین تبدیلی سال 2024 میں بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور عبوری سیٹ اپ کے قیام کے بعد ڈھاکہ کی خارجہ پالیسی میں آنے والے وسیع تر بدلاؤ کا نتیجہ ہے۔
بنگلہ دیش کی موجودہ قیادت نئی دہلی پر اپنا روایتی انحصار کم کرتے ہوئے اسلام آباد کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو ازسرِ نو استوار کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ناصرف بیوروکریسی بلکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی اور تجارتی تعاون میں بھی نمایاں اور مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق لاہور میں بنگلہ دیشی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کی تربیت ناصرف دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے موجود سرد مہرانی کے خاتمے کا ثبوت ہے، بلکہ اس سے خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ڈھاکہ کا یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش اب جنوبی ایشیا میں توازنِ برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ روابط کو اگلی سطح پر لے جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔