"> خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف وال چاکنگ؛ عوامی نفرت کا اظہار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کا بیانیہ مسترد کر دیا؛ فتنہ الخوارج کے خلاف جگہ جگہ وال چاکنگ

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج اور نور ولی محسود کے خلاف وال چاکنگ سامنے آئی ہے، جہاں عوام نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور علما کے قتل کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج اور نور ولی محسود کے خلاف وال چاکنگ سامنے آئی ہے، جہاں عوام نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور علما کے قتل کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔

پشاور، باڑہ، کوہاٹ روڈ اور دیگر علاقوں میں فتنہ الخوارج کے خلاف وال چاکنگ کی تفصیلات۔ عوام نے دہشت گردی، انتہا پسند نظریات اور نور ولی محسود کے خلاف کھل کر ردعمل دیا۔

May 26, 2026

خیبر پختونخوا کے غیور اور بہادر عوام فتنہ الخوارج کے انتہا پسندانہ نظریات اور دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع، شہروں اور تجارتی شاہراہوں پر دہشت گرد تنظیموں اور ان کی قیادت کے خلاف بڑے پیمانے پر وال چاکنگ سامنے آئی ہے، جو انتہا پسندی اور معصوم انسانوں کے خون بہانے والے عناصر کے خلاف عوامی نفرت کا واضح اور دوٹوک اظہار ہے۔

وال چاکنگ اور نعرے

سکیورٹی ذرائع اور مقامی مبصرین کے مطابق، کوہاٹ روڈ، باڑہ، ضلع خیبر، کرم اور صوبائی دارالحکومت پشاور کے مختلف حساس اور عوامی مقامات پر رات کی تاریکی میں اور دن کے اوقات میں دیواروں پر فتنہ الخوارج کے خلاف نعرے درج کیے گئے ہیں۔ ان نعروں میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ نور ولی خوارجی پر لعنت اور خوارج علماء کے قاتل ہیں۔

عوامی سطح پر اس نوعیت کے پیغامات کا اتنے وسیع پیمانے پر سامنے آنا معمول کی بات نہیں، بلکہ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی آبادی اب ان کے دہشت گردانہ ہتھکنڈوں سے شدید بیزار ہو چکی ہے۔

فتنہ الخوارج اور عوامی غصہ

ماہرینِ امورِ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ یہ نعرے دراصل فتنہ الخوارج کی جانب سے کیے جانے والے تشدد، بھتہ خوری اور انتہاپسندی کے خلاف نچلی سطح پر پائے جانے والے شدید عوامی غصے کی عکاسی کرتے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے عسکریت پسندوں نے اب تک خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں، امن پسند علما اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر شہید کیا ہے۔

کالعدم تنظیم کے سرغنہ نور ولی محسود کو ان تمام جانی و مالی نقصانات، خودکش حملوں اور ہلاکتوں کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب عوام کھلے عام ان کے خلاف میدان میں آ رہے ہیں۔

قومی یکجہتی اور استحکام کا عزم

عوامی سطح پر ان پیغامات کے تواتر کے ساتھ سامنے آنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خیبر پختونخوا کی سرزمین پر اب دہشت گردی، شر اور انتہا پسندانہ بیانیے کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔

مقامی عمائدین اور شہریوں نے اس ردعمل کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کی بحالی، قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں اور خوارج کے فساد کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *