خیبر پختونخوا کے غیور اور بہادر عوام فتنہ الخوارج کے انتہا پسندانہ نظریات اور دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع، شہروں اور تجارتی شاہراہوں پر دہشت گرد تنظیموں اور ان کی قیادت کے خلاف بڑے پیمانے پر وال چاکنگ سامنے آئی ہے، جو انتہا پسندی اور معصوم انسانوں کے خون بہانے والے عناصر کے خلاف عوامی نفرت کا واضح اور دوٹوک اظہار ہے۔
وال چاکنگ اور نعرے
سکیورٹی ذرائع اور مقامی مبصرین کے مطابق، کوہاٹ روڈ، باڑہ، ضلع خیبر، کرم اور صوبائی دارالحکومت پشاور کے مختلف حساس اور عوامی مقامات پر رات کی تاریکی میں اور دن کے اوقات میں دیواروں پر فتنہ الخوارج کے خلاف نعرے درج کیے گئے ہیں۔ ان نعروں میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ نور ولی خوارجی پر لعنت اور خوارج علماء کے قاتل ہیں۔
عوامی سطح پر اس نوعیت کے پیغامات کا اتنے وسیع پیمانے پر سامنے آنا معمول کی بات نہیں، بلکہ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی آبادی اب ان کے دہشت گردانہ ہتھکنڈوں سے شدید بیزار ہو چکی ہے۔
فتنہ الخوارج اور عوامی غصہ
ماہرینِ امورِ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ یہ نعرے دراصل فتنہ الخوارج کی جانب سے کیے جانے والے تشدد، بھتہ خوری اور انتہاپسندی کے خلاف نچلی سطح پر پائے جانے والے شدید عوامی غصے کی عکاسی کرتے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے عسکریت پسندوں نے اب تک خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع میں ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں، امن پسند علما اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر شہید کیا ہے۔
کالعدم تنظیم کے سرغنہ نور ولی محسود کو ان تمام جانی و مالی نقصانات، خودکش حملوں اور ہلاکتوں کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب عوام کھلے عام ان کے خلاف میدان میں آ رہے ہیں۔
قومی یکجہتی اور استحکام کا عزم
عوامی سطح پر ان پیغامات کے تواتر کے ساتھ سامنے آنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خیبر پختونخوا کی سرزمین پر اب دہشت گردی، شر اور انتہا پسندانہ بیانیے کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔
مقامی عمائدین اور شہریوں نے اس ردعمل کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کی بحالی، قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں اور خوارج کے فساد کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔