مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

طالبان دور میں افغان خواتین پر تشدد اور جبری شادیوں کا انکشاف، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں افغان طالبان حکومت کے حکام اور جنگجوؤں کی جانب سے خواتین پر بدترین جنسی تشدد، جبری شادیوں اور غیر انسانی سلوک کا سنسنی خیز انکشاف۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں افغان طالبان حکومت کے حکام اور جنگجوؤں کی جانب سے خواتین پر بدترین جنسی تشدد، جبری شادیوں اور غیر انسانی سلوک کا سنسنی خیز انکشاف۔

پی ٹی وی نیوز کے مطابق اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے افغان طالبان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ میں طالبان حکام کی جانب سے افغان خواتین کے انفرادی و اجتماعی استحصال اور حراستی تشدد کی تصدیق کی گئی ہے۔

June 1, 2026

اسلام آباد: سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز کے مطابق افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے زیرِ سایہ خواتین پر ہونے والے جنسی اور غیر انسانی مظالم عالمی سطح پر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ تشویشناک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے رہنما اور جنگجو خواتین کے خلاف سنگین جنسی تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔

خواتین کا استحصال

اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق، طالبان حکام اور ان کے مسلح جنگجوؤں نے افغان خواتین کو بدترین انفرادی اور اجتماعی استحصال کا نشانہ بنایا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ طالبان کے بااثر حکام اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین کو جبری شادیوں پر مجبور کرنے کی مجرمانہ سرگرمیوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔

خواتین پر تشدد

عالمی ادارے کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے والی افغان خواتین کو طالبان حکام کی جانب سے جبری طور پر حراست میں لیا جاتا ہے۔ حراستی مراکز میں ان مظلوم خواتین کو نہ صرف شدید تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، بلکہ ان کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا ہے، جو عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

تحقیقات کا مطالبہ

افغانستان کے قومی سلامتی کے ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے اس نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا ہے کہ طالبان حکام کی جانب سے خواتین پر ڈھائے جانے والے ان سنگین مظالم اور جنسی استحصال کے معاملات کی فوری طور پر ایک آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *