ضلع خیبر کے قبائلی عمائدین نے دہشت گردی اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف عوامی سطح پر ایک باقاعدہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام تک ان کی مہم جاری رہے گی۔ اس عزم کا اظہار ایک اہم شاہراہ پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے دوران کیا گیا، جہاں قبائلی رہنماؤں نے علاقے میں سرگرم دہشت گرد عناصر کو چیلنج کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا مقصد صرف سڑکیں بند کرنا نہیں بلکہ بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کی جانب توجہ مبذول کرانا اور امن کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرنا ہے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ علاقے میں اغوا، دھمکیوں اور تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جس کا نشانہ نوجوان، بچے اور معاشرے کے معزز افراد بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق خوف و ہراس کی فضا جان بوجھ کر پیدا کی جا رہی ہے تاکہ امن دشمن عناصر کو غیر قانونی اور غیر آئینی سرگرمیوں کے لیے گنجائش مل سکے۔
قبائلی عمائدین نے مقامی آبادی کو درپیش خطرات، اغوا کے واقعات اور خواتین و خاندانوں کو متاثر کرنے والے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ریاستی رٹ اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔
انہوں نے باقاعدہ امن تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سیکیورٹی کی صورتحال میں واضح بہتری نہیں آتی اور شہری خوف کے بغیر زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہو جاتے، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک قبائلی بزرگ نے کہا کہ سڑکوں کی بندش اور نقل و حرکت کی معطلی کا مقصد پورے معاشرے کو یہ پیغام دینا تھا کہ امن کے لیے اجتماعی اتحاد ناگزیر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج صرف اغوا ہونے والے بچوں کی بازیابی تک محدود نہیں بلکہ علاقے کو درپیش وسیع تر سیکیورٹی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔قبائلی رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کی عزت، سلامتی اور حقوق کا تحفظ معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ دھمکیوں اور تشدد کے سامنے خاموشی اختیار کرنا امن دشمن عناصر کو مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مقامی آبادی دہشت گرد نیٹ ورکس اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کی حمایت کر رہی ہے۔
قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ امن، ترقی اور استحکام صرف مقامی آبادی، قبائلی مشران اور ریاستی اداروں کے درمیان قریبی تعاون سے ہی ممکن ہے، جبکہ مسلسل بدامنی نہ صرف سماجی ہم آہنگی بلکہ معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔