طالبان حکومت کی مبینہ ہٹ دھرمی اور اپنے شہریوں کی واپسی سے انکار کے باعث جرمنی سے افغان باشندوں کو واپس لانے والی شیڈول پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔

June 7, 2026

ضلع خیبر کے قبائلی عمائدین نے دہشت گردی، اغوا اور بدامنی کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

June 7, 2026

رانا ثناء اللہ نے آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جتھہ کلچر اور دھونس سے آئینی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

June 7, 2026

وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ احتجاج پرامن نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

June 7, 2026

آزاد کشمیر میں احتجاج کے امکان پر آسٹریلوی ہائی کمشنر کی سفری ایڈوائزری پر پاکستان میں شدید تحفظات؛ ملک گیر عمومی لیبلز مسترد کرتے ہوئے ازسرِنو جائزے کا مطالبہ۔

June 7, 2026

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار فتنہ الخوارج کے اہم کارندے عمر دین عرف جذبہ نے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کو افغانستان سے فنڈنگ اور تربیت ملتی ہے اور یہ گروہ جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔

June 7, 2026

خیبر میں دہشت گردی کے خلاف قبائلی عمائدین متحرک، امن تحریک کا آغاز

ضلع خیبر کے قبائلی عمائدین نے دہشت گردی، اغوا اور بدامنی کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
ضلع خیبر کے قبائلی عمائدین نے دہشت گردی، اغوا اور بدامنی کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

خیبر کے قبائلی عمائدین نے دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف تحریک شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے عوام اور ریاستی اداروں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

June 7, 2026

ضلع خیبر کے قبائلی عمائدین نے دہشت گردی اور بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف عوامی سطح پر ایک باقاعدہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام تک ان کی مہم جاری رہے گی۔ اس عزم کا اظہار ایک اہم شاہراہ پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے دوران کیا گیا، جہاں قبائلی رہنماؤں نے علاقے میں سرگرم دہشت گرد عناصر کو چیلنج کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا مقصد صرف سڑکیں بند کرنا نہیں بلکہ بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کی جانب توجہ مبذول کرانا اور امن کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرنا ہے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ علاقے میں اغوا، دھمکیوں اور تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جس کا نشانہ نوجوان، بچے اور معاشرے کے معزز افراد بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق خوف و ہراس کی فضا جان بوجھ کر پیدا کی جا رہی ہے تاکہ امن دشمن عناصر کو غیر قانونی اور غیر آئینی سرگرمیوں کے لیے گنجائش مل سکے۔

قبائلی عمائدین نے مقامی آبادی کو درپیش خطرات، اغوا کے واقعات اور خواتین و خاندانوں کو متاثر کرنے والے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ریاستی رٹ اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔

انہوں نے باقاعدہ امن تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سیکیورٹی کی صورتحال میں واضح بہتری نہیں آتی اور شہری خوف کے بغیر زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہو جاتے، ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک قبائلی بزرگ نے کہا کہ سڑکوں کی بندش اور نقل و حرکت کی معطلی کا مقصد پورے معاشرے کو یہ پیغام دینا تھا کہ امن کے لیے اجتماعی اتحاد ناگزیر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج صرف اغوا ہونے والے بچوں کی بازیابی تک محدود نہیں بلکہ علاقے کو درپیش وسیع تر سیکیورٹی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔قبائلی رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کی عزت، سلامتی اور حقوق کا تحفظ معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ دھمکیوں اور تشدد کے سامنے خاموشی اختیار کرنا امن دشمن عناصر کو مزید حوصلہ دے سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور مقامی آبادی دہشت گرد نیٹ ورکس اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کی حمایت کر رہی ہے۔

قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ امن، ترقی اور استحکام صرف مقامی آبادی، قبائلی مشران اور ریاستی اداروں کے درمیان قریبی تعاون سے ہی ممکن ہے، جبکہ مسلسل بدامنی نہ صرف سماجی ہم آہنگی بلکہ معاشی سرگرمیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

طالبان حکومت کی مبینہ ہٹ دھرمی اور اپنے شہریوں کی واپسی سے انکار کے باعث جرمنی سے افغان باشندوں کو واپس لانے والی شیڈول پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔

June 7, 2026

رانا ثناء اللہ نے آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جتھہ کلچر اور دھونس سے آئینی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

June 7, 2026

وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ احتجاج پرامن نہیں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

June 7, 2026

آزاد کشمیر میں احتجاج کے امکان پر آسٹریلوی ہائی کمشنر کی سفری ایڈوائزری پر پاکستان میں شدید تحفظات؛ ملک گیر عمومی لیبلز مسترد کرتے ہوئے ازسرِنو جائزے کا مطالبہ۔

June 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *