داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری کی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں موجودگی سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کنڑ کو اس کا ممکنہ ٹھکانہ قرار دیا گیا تھا۔

September 23, 2026

حکام نے تحریک انصاف کے احتجاج کے تناظر میں ہسپتالوں کو بستر خالی کرانے سے متعلق سوشل میڈیا دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل جھوٹ قرار دے دیا۔

September 23, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی اجلاس میں افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے فوری اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

September 23, 2026

پاک فوج نے کرم سیکٹر میں فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں نشانہ بنیں۔

September 23, 2026

ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کے تنازعات مذاکرات اور اقوام متحدہ کے منشور و قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔

September 23, 2026

سعودی عرب کے 96ویں قومی دن پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے شاہ سلمان، محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو مبارکباد دی۔

September 23, 2026

طالبان کا اپنے شہری لینے سے انکار، جرمنی سے افغانوں کی واپسی کی پرواز منسوخ

طالبان حکومت کی مبینہ ہٹ دھرمی اور اپنے شہریوں کی واپسی سے انکار کے باعث جرمنی سے افغان باشندوں کو واپس لانے والی شیڈول پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔
طالبان حکومت کی مبینہ ہٹ دھرمی اور اپنے شہریوں کی واپسی سے انکار کے باعث جرمنی سے افغان باشندوں کو واپس لانے والی شیڈول پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔

جرمنی سے افغان شہریوں کی واپسی کی پرواز طالبان حکومت کے اصرار اور شرائط کے باعث منسوخ ہو گئی ہے، جسے ماہرین عالمی برادری سے فوائد حاصل کرنے اور سفارتی مشنز کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

June 7, 2026

طالبان حکومت کی مبینہ ہٹ دھرمی اور اپنے ہی شہریوں کو واپس لینے سے انکار کے باعث جرمنی سے افغان باشندوں کی واپسی کے لیے مقررہ شیڈول پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔ جرمن میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پرواز کو دوبارہ ترتیب دیا جائے گا، تاہم تاحال نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ماہرین اور سفارتی ذرائع اس پیش رفت کو طالبان حکومت کی جانب سے خود کو دنیا میں مزید تنہا کرنے اور عالمی برادری پر دباؤ بڑھانے کی ایک نئی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔

سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت دراصل اس نوعیت کے معاملات کو بنیاد بنا کر جرمنی میں قائم افغان سفارتی مشنز اور سفارت خانوں کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ وہاں اپنے پسندیدہ نمائندوں کو تعینات کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ طالبان انتظامیہ اپنے شہریوں کی واپسی کو مشروط کر کے عالمی برادری اور یورپی ممالک سے مختلف سیاسی و معاشی فوائد حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل تعطل کا شکار ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اگست 2024 میں جرمنی نے پہلی مرتبہ سنگین جرائم میں ملوث 28 افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کر کے کابل واپس بھیجا تھا۔ جرمن حکام کا مہم جوئی اور جرائم میں ملوث تارکینِ وطن کے خلاف سخت موقف برقرار ہے، تاہم حالیہ پرواز کی منسوخی سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور انتظامی سطح پر پائے جانے والے شدید اختلافات اور طالبان کے غیر لچکدار رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین

داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری کی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں موجودگی سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کنڑ کو اس کا ممکنہ ٹھکانہ قرار دیا گیا تھا۔

September 23, 2026

حکام نے تحریک انصاف کے احتجاج کے تناظر میں ہسپتالوں کو بستر خالی کرانے سے متعلق سوشل میڈیا دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل جھوٹ قرار دے دیا۔

September 23, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی اجلاس میں افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے فوری اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

September 23, 2026

پاک فوج نے کرم سیکٹر میں فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں نشانہ بنیں۔

September 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *