طالبان حکومت کی مبینہ ہٹ دھرمی اور اپنے ہی شہریوں کو واپس لینے سے انکار کے باعث جرمنی سے افغان باشندوں کی واپسی کے لیے مقررہ شیڈول پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔ جرمن میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پرواز کو دوبارہ ترتیب دیا جائے گا، تاہم تاحال نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ماہرین اور سفارتی ذرائع اس پیش رفت کو طالبان حکومت کی جانب سے خود کو دنیا میں مزید تنہا کرنے اور عالمی برادری پر دباؤ بڑھانے کی ایک نئی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت دراصل اس نوعیت کے معاملات کو بنیاد بنا کر جرمنی میں قائم افغان سفارتی مشنز اور سفارت خانوں کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ وہاں اپنے پسندیدہ نمائندوں کو تعینات کیا جا سکے۔
طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی کےباعث جرمنی سےافغان شہریوں کوواپس لانےوالی پروازمنسوخ
— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 7, 2026
طالبان رجیم کی دنیاسےخود کومنوانےکیلئےنئی چال،جرمنی سےاپنے ہی شہریوں کوواپس لینےسےانکار
جرمنی سےافغان شہریوں کوواپس لانے والی طے شدہ پروازمنسوخ کردی گئی،جرمن نیوز ایجنسی
پروازکو دوبارہ شیڈول کیاجائےگا… pic.twitter.com/FHUwPFxUQM
اس کے علاوہ طالبان انتظامیہ اپنے شہریوں کی واپسی کو مشروط کر کے عالمی برادری اور یورپی ممالک سے مختلف سیاسی و معاشی فوائد حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل تعطل کا شکار ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اگست 2024 میں جرمنی نے پہلی مرتبہ سنگین جرائم میں ملوث 28 افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کر کے کابل واپس بھیجا تھا۔ جرمن حکام کا مہم جوئی اور جرائم میں ملوث تارکینِ وطن کے خلاف سخت موقف برقرار ہے، تاہم حالیہ پرواز کی منسوخی سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور انتظامی سطح پر پائے جانے والے شدید اختلافات اور طالبان کے غیر لچکدار رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔