پاکستان نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان کے اندر سرحدی اضلاع میں موجود دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور کامیاب کاروائیاں انجام دی ہیں۔ ان ٹارگٹڈ آپریشنز میں دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں، تربیتی کیمپوں اور ان کے نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کاروائیاں افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع شلتان، صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل اور صوبہ خوست کے ضلع سپیرا میں کی گئیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ملوث کالعدم تنظیموں کے ٹھکانے موجود تھے، تاکہ سیکیورٹی خطرات کا مؤثر تدارک کیا جا سکے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت کی جانب سے روایتی طور پر ان کاروائیوں کو شہری آبادی پر حملوں اور مبینہ شہری ہلاکتوں سے جوڑ کر گمراہ کن اور بے بنیاد معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔
افغان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان فضائی کارروائیوں میں بچوں اور خواتین سمیت عام شہریوں کے جانی نقصان کے دعوے کیے گئے ہیں، جنہیں پاکستان کے مؤقف کے مطابق حقائق کو مسخ کرنے اور عالمی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کا ہمیشہ سے یہ واضح مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اور بارہا تنبیہ کے باوجود افغان انتظامیہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد پاکستان کو مجبوراً اپنی دفاعی اور سکیورٹی حدود میں رہتے ہوئے یہ قدم اٹھانا پڑا۔