ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کے تنازعات مذاکرات اور اقوام متحدہ کے منشور و قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔

September 23, 2026

سعودی عرب کے 96ویں قومی دن پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے شاہ سلمان، محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو مبارکباد دی۔

September 23, 2026

کرم سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستانی فورسز نے مختلف چوکیوں سے جوابی کارروائی کی۔

September 22, 2026

آپریشن شعبان 2 کے تحت بلوچستان کے ساران تنگی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک اور 9 مشتبہ افراد گرفتار ہوگئے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں آئینی مشینری کی ناکامی، امن و امان کے بگاڑ اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت انتظامی کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی اور شہداء کے جنازوں سے صوبائی قیادت کی لاتعلقی پر سوالات اٹھ گئے۔

September 22, 2026

افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کی کاروائی، شہری ہلاکتوں کے دعوے مسترد

پاکستان نے افغانستان کے صوبوں کنڑ، پکتیکا اور خوست میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر درست کاروائیاں کی ہیں، جبکہ افغان طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو گمراہ کن قرار دے دیا گیا ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے صوبوں کنڑ، پکتیکا اور خوست میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر درست کاروائیاں کی ہیں، جبکہ افغان طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو گمراہ کن قرار دے دیا گیا ہے۔

پاکستان کی افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی؛ کنڑ، پکتیکا اور خوست میں ٹھکانے تباہ، افغان طالبان کا پروپیگنڈا اور بے بنیاد معلومات مسترد۔

June 10, 2026

پاکستان نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان کے اندر سرحدی اضلاع میں موجود دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور کامیاب کاروائیاں انجام دی ہیں۔ ان ٹارگٹڈ آپریشنز میں دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں، تربیتی کیمپوں اور ان کے نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ کاروائیاں افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع شلتان، صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل اور صوبہ خوست کے ضلع سپیرا میں کی گئیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ملوث کالعدم تنظیموں کے ٹھکانے موجود تھے، تاکہ سیکیورٹی خطرات کا مؤثر تدارک کیا جا سکے۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت کی جانب سے روایتی طور پر ان کاروائیوں کو شہری آبادی پر حملوں اور مبینہ شہری ہلاکتوں سے جوڑ کر گمراہ کن اور بے بنیاد معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

افغان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان فضائی کارروائیوں میں بچوں اور خواتین سمیت عام شہریوں کے جانی نقصان کے دعوے کیے گئے ہیں، جنہیں پاکستان کے مؤقف کے مطابق حقائق کو مسخ کرنے اور عالمی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ واضح مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، اور بارہا تنبیہ کے باوجود افغان انتظامیہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد پاکستان کو مجبوراً اپنی دفاعی اور سکیورٹی حدود میں رہتے ہوئے یہ قدم اٹھانا پڑا۔

متعلقہ مضامین

ترک صدر رجب طیب اردوان نے مسئلہ کشمیر سمیت جنوبی ایشیا کے تنازعات مذاکرات اور اقوام متحدہ کے منشور و قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔

September 23, 2026

سعودی عرب کے 96ویں قومی دن پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے شاہ سلمان، محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو مبارکباد دی۔

September 23, 2026

کرم سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستانی فورسز نے مختلف چوکیوں سے جوابی کارروائی کی۔

September 22, 2026

آپریشن شعبان 2 کے تحت بلوچستان کے ساران تنگی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک اور 9 مشتبہ افراد گرفتار ہوگئے۔

September 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *