افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کو پاکستان کو صبر و تحمل اور مذاکرات کا مشورہ دینے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سیاسی و دفاعی مبصرین نے ان کے بیانات کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے افغان سرزمیں پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور پاک افغان سرحد پار سے ہونے والے مسلسل حملوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ دوحہ معاہدے کے روحِ رواں زلمے خلیل زاد اب دہشت گردی کے خاتمے پر نصائح کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔
ناقدین کے مطابق ان کی سابقہ سفارت کاری نے خطے کو انتہا پسندی کی دلدل میں دھکیلنے، افغان طالبان کو بین الاقوامی سطح پر دوبارہ فعال کرنے اور اس وقت کی قانونی افغان حکومت کو کمزور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں عسکریت پسند تنظیموں کو دوبارہ پنپنے کا موقع ملا۔
Pakistan has attacked Afghanistan again. According to media reports many civilians including children were killed. I condemn this attack as I have condemned previous attacks killing civilians. This kind of violence will not resolve the problem between the 2 countries: the…
— Zalmay Khalilzad (@realZalmayMK) June 10, 2026
بین الاقوامی سیکیورٹی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ اس وقت افغان سرزمیں پر القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان سمیت بیس سے زائد دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں۔ یہ نیٹ ورک بلا روک ٹوک سرحد پار کارروائیوں میں ملوث ہیں، جو پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ سابق امریکی سفارت کار کا تازہ بیان کابل انتظامیہ کو اس کی ذمہ داریوں سے بچانے اور ان کی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں افغان صورتحال پر ہونے والی بحث نے خلیل زاد کی ماضی کی سفارتی پالیسیوں کی ناکامی کو واضح کر دیا ہے۔ عالمی برادری نے کابل حکام کی جانب سے سیکیورٹی وعدوں کو پورا نہ کرنے اور افغان سرزمیں سے بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
علاقائی تزویراتی تبدیلیاں اور پاک افغان سرحد پر بڑھتے ہوئے خطرات اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ اسلام آباد اپنے قومی دفاع اور سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے عسکری قیادت اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کے خلاف براہِ راست اور فیصلہ کن اقدامات پر عملدرآمد کرے۔