پاکستان کو علاقائی منشیات کی اسمگلنگ سے جوڑنے کی بدنیتی پر مبنی میڈیا رپورٹس اور دعووں کو دستاویزی شواہد کی عدم موجودگی اور یکطرفہ بیانیے کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے ان الزامات کو حقائق کو مسخ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے، جس کا مقصد افغانستان کے اندر فعال منشیات کے نیٹ ورکس اور فیکٹریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
حال ہی میں امریکی جریدے ناشینل انٹرسٹ میں ناطق ملک زادہ نامی مصنف کا ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس میں بغیر کسی قانونی دستاویزی ثبوت اور تصدیق کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ تحریر صحافتی اصولوں کے برعکس محض مفروضوں پر مبنی ہے، جس میں افغان سرزمیں پر موجود افیون اور شیشے (میتھمفیٹامائن) کی پیداوار کے حقیقی مراکز اور کارخانوں کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔
جغرافیائی حقائق اور بین الاقوامی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ پاکستان منشیات پیدا کرنے والا ملک نہیں، بلکہ افغان منشیات کا سب سے بڑا شکار اور اس کی اسمگلنگ کے خلاف ایک عبوری ریاست (ٹرانزٹ کنٹری) ہے۔
پاکستان پاک افغان سرحد کے ذریعے زہریلے مواد کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھاری مالی اور سیکیورٹی نقصانات برداشت کر رہا ہے۔ اس کے برعکس، عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت میں حالیہ عرصے کے دوران تقریباً بیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس بات کا واشگاف ثبوت ہے کہ اس بحران کا سرچشمہ سرحد پار موجود ہے۔
عالمی برادری اور معتبر ادارے پاکستان کی ان تھک کوششوں کا باقاعدہ اعتراف کرتے ہیں۔ پاکستان نے سخت سیکیورٹی پالیسیوں اور انسدادِ منشیات کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے باعث سنہ 2001 سے خود کو پوست کی کاشت سے پاک ملک برقرار رکھا ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے منشیات و جرائم، امریکی انسدادِ منشیات کی انتظامیہ اور انٹرپول نے مختلف مواقع پر اسلام آباد کے اس کردار کی کھل کر تعریف کی ہے۔ خطے کی موجودہ حساس صورتحال اور پاک افغان سرحدی چیلنجز کے تناظر میں، پاکستان منشیات کے ذریعے حاصل ہونے والے سرمائے کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔