پاکستان کے خلاف منشیات اسمگلنگ سے متعلق الزامات پر سوالات اٹھ گئے، مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کے اصل مراکز پر توجہ دینا ضروری ہے۔

June 10, 2026

زلمے خلیل زاد کو پاکستان کو عسکری ردعمل سے گریز کا مشورہ دینے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، مبصرین نے ان پر افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔

June 10, 2026

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے سویلین ہلاکتوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل انتظامیہ سرحد پار دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہی ہے۔

June 10, 2026

کابل-قندھار شاہراہ پر حادثے میں طالبان کمانڈر کی ہلاکت اور گاڑی سے خطیر رقم کی برآمدگی نے امدادی فنڈز کی چوری کے تنازع کو دوبارہ ہوا دے دی ہے۔

June 10, 2026

مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام فوجی اہلکار شہید ہو گئے۔

June 10, 2026

پاک افغان سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کاروائیوں میں فتنہ الخوارج کے 26 دہشت گرد ہلاک اور ان کے 4 اہم ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

June 10, 2026

پاکستان پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات مسترد، افغان نیٹ ورکس بے نقاب

پاکستان کے خلاف منشیات اسمگلنگ سے متعلق الزامات پر سوالات اٹھ گئے، مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کے اصل مراکز پر توجہ دینا ضروری ہے۔
پاکستان کے خلاف منشیات اسمگلنگ سے متعلق الزامات پر سوالات اٹھ گئے، مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کے اصل مراکز پر توجہ دینا ضروری ہے۔

پاکستان کے خلاف منشیات اسمگلنگ کے الزامات پر تنقید، ماہرین نے افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور علاقائی اسمگلنگ نیٹ ورکس کو اصل چیلنج قرار دے دیا۔

June 10, 2026

پاکستان کو علاقائی منشیات کی اسمگلنگ سے جوڑنے کی بدنیتی پر مبنی میڈیا رپورٹس اور دعووں کو دستاویزی شواہد کی عدم موجودگی اور یکطرفہ بیانیے کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین نے ان الزامات کو حقائق کو مسخ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے، جس کا مقصد افغانستان کے اندر فعال منشیات کے نیٹ ورکس اور فیکٹریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

حال ہی میں امریکی جریدے ناشینل انٹرسٹ میں ناطق ملک زادہ نامی مصنف کا ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس میں بغیر کسی قانونی دستاویزی ثبوت اور تصدیق کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق یہ تحریر صحافتی اصولوں کے برعکس محض مفروضوں پر مبنی ہے، جس میں افغان سرزمیں پر موجود افیون اور شیشے (میتھمفیٹامائن) کی پیداوار کے حقیقی مراکز اور کارخانوں کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔

جغرافیائی حقائق اور بین الاقوامی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ پاکستان منشیات پیدا کرنے والا ملک نہیں، بلکہ افغان منشیات کا سب سے بڑا شکار اور اس کی اسمگلنگ کے خلاف ایک عبوری ریاست (ٹرانزٹ کنٹری) ہے۔

پاکستان پاک افغان سرحد کے ذریعے زہریلے مواد کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھاری مالی اور سیکیورٹی نقصانات برداشت کر رہا ہے۔ اس کے برعکس، عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت میں حالیہ عرصے کے دوران تقریباً بیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس بات کا واشگاف ثبوت ہے کہ اس بحران کا سرچشمہ سرحد پار موجود ہے۔

عالمی برادری اور معتبر ادارے پاکستان کی ان تھک کوششوں کا باقاعدہ اعتراف کرتے ہیں۔ پاکستان نے سخت سیکیورٹی پالیسیوں اور انسدادِ منشیات کے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے باعث سنہ 2001 سے خود کو پوست کی کاشت سے پاک ملک برقرار رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے منشیات و جرائم، امریکی انسدادِ منشیات کی انتظامیہ اور انٹرپول نے مختلف مواقع پر اسلام آباد کے اس کردار کی کھل کر تعریف کی ہے۔ خطے کی موجودہ حساس صورتحال اور پاک افغان سرحدی چیلنجز کے تناظر میں، پاکستان منشیات کے ذریعے حاصل ہونے والے سرمائے کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

زلمے خلیل زاد کو پاکستان کو عسکری ردعمل سے گریز کا مشورہ دینے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، مبصرین نے ان پر افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا ہے۔

June 10, 2026

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے سویلین ہلاکتوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل انتظامیہ سرحد پار دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کے لیے گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہی ہے۔

June 10, 2026

کابل-قندھار شاہراہ پر حادثے میں طالبان کمانڈر کی ہلاکت اور گاڑی سے خطیر رقم کی برآمدگی نے امدادی فنڈز کی چوری کے تنازع کو دوبارہ ہوا دے دی ہے۔

June 10, 2026

مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام فوجی اہلکار شہید ہو گئے۔

June 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *