طویل سفارتی کوششوں اور مسلسل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کاروائیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ شہباز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
علاقائی کوششوں کا اعتراف
وزیراعظم شہباز شریف نے پنے بیان میں بتایا کہ معاہدے کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگی سرگرمیاں بند کر دی جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس تاریخی معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے اس عمل کو ممکن بنانے میں قطر کی ثالثی اور فعال سفارتی کردار کو خاص طور پر سراہا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جن کی دور اندیش کاوشوں نے امن کی راہ هموار کی۔ و
زیراعظم کے مطابق ثالثی کرنے والے ممالک اس ہفتے متعدد ملاقاتیں کریں گے تاکہ ابتدائی تکنیکی مذاکرات اور معاہدے پر عمل درآمد کے امور کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جمعے کے روز آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا اور انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔
ایک اور بیان میں امریکی صدر نے اسے خطے کے لیے امن کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے کئی امریکی صدور ایران کے ساتھ امن قائم کرنے میں ناکام رہے، لیکن ان کی انتظامیہ نے یہ تاریخی پیش رفت ممکن بنائی۔
ساٹھ روزہ جنگ بندی
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس حوالے سے بتایا کہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران ایک مزید جامع معاہدے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ ان آئندہ مذاکرات میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل جیسے اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
عالمی ردعمل
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان سمیت تمام علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی کو ضروری قرار دیا، تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ وہ مجوزہ امریکہایران معاہدے کا فریق نہیں ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے خطے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی تھی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افرا ہلاک ہوئے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی منڈی شدید متاثر رہی۔