خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں ساتین میر باغ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حالیہ حملے میں شدید زخمی ہونے والا پولیس اہلکار ہسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گزشتہ روز شرپسندوں نے میر باغ پولیس چیک پوسٹ پر اندھا دھند فائرنگ کی اور بعد ازاں پوسٹ کو آگ لگا دی۔ اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں جانی نقصان کی تعداد اب 4 ہو گئی ہے، جس میں 1 پولیس اہلکار اور 3 شہری شامل ہیں۔
سکیورٹی حکام نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ کر 2 مقامی شہری موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ اسی حملے اور شدید فائرنگ کے خوف سے 1 خاتون دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئیں۔
ذرائع کے مطابق ضلع کرم میں کشیدگی کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، بلکہ ایک اور واقعے میں سکیورٹی قافلے پر بھی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 1 ٹرک ڈرائیور جاں بحق ہو گیا، جبکہ شرپسندوں کی جانب سے امدادی گاڑیوں میں لوٹ مار کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں مجموعی طور پر 19 پولیس اہلکار اور 21 شہریوں سمیت 40 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے صدہ، پارا چنار اور علیزئی کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعے کے بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔