انقرہ: ترکیہ انٹیلی جنس نے ایک انتہائی اہم کاروائی کرتے ہوئے عالمی دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کے ایک انتہائی مطلوب اور سینئر رکن احمد قازانجی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترک حکام کے مطابق گرفتار ملزم تنظیم کی ترک زبان میں چلنے والی تمام میڈیا اور پراپیگنڈا سرگرمیوں کا مرکزی نگران تھا۔ احمد قازانجی کو دہشت گردی کے نیٹ ورک میں ابو عبیدہ اور ابو ابراہیم کے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔
اوزگور آلتون کی گرفتاری
سکیورٹی ذرائع کے مطابق احمد قازانجی کو داعش خراسان کے سابق ترک میڈیا سربراہ اوزگور آلتون (المعروف ابو یاسر الترکی) کا براہِ راست جانشین قرار دیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اوزگور آلتون کو کچھ عرصہ قبل پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ افغانستان سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
Turkish intelligence captures senior Daesh Khorasan operative
— Eagle Eye (@zarrar_11PK) June 17, 2026
Türkiye's National Intelligence Organization (MIT) has captured Ahmet Kazanci, a senior Daesh Khorasan Province operative who oversaw the terrorist group's Turkish-language media activities.
Kazanci, who used the… https://t.co/H1s6phKa8V pic.twitter.com/iWSF3LvtoL
جس کے بعد اسے تہران اور دیگر سفارتی ذرائع سے ترکی واپس منتقل کر دیا گیا تھا۔ اوزگور آلتون کی پاکستان میں گرفتاری کے بعد احمد قازانجی نے اس کی تمام تنظیمی اور ابلاغی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔
عسکری تربیت کا انکشاف
ترک انٹیلی جنس کی ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ احمد قازانجی ترکی سے غیر قانونی راستوں کے ذریعے افغانستان گیا تھا، جہاں اس نے داعش کی علاقائی شاخ ‘داعش خراسان’ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ افغانستان میں قیام کے دوران ملزم نے تنظیم کے خصوصی کیمپوں سے جدید عسکری اور مذہبی تربیت حاصل کی۔ وہ اوزگور آلتون کے ساتھ مل کر ایک ایسے نیٹ ورک کی نگرانی بھی کرتا رہا جو ترکی سے نوجوانوں کو ورغلا کر عسکری تربیت کے لیے افغانستان منتقل کرنے کا کام کرتا تھا۔
دورانِ تفتیش اعترافِ جرم
ترک حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد دورانِ تفتیش ملزم احمد قازانجی نے اوزگور آلتون کے ساتھ اپنے قریبی روابط اور داعش خراسان کے اندر کی جانے والی تمام تخریبی سرگرمیوں کا اعتراف کر لیا ہے۔
ملزم نے تفصیلی بیان دیتے ہوئے بتایا کہ وہ کس طرح افغانستان میں عسکری اور نظریاتی تربیت مکمل کرنے کے بعد تنظیم کے میڈیا و پراپیگنڈا ڈھانچے کو چلا رہا تھا اور ترک زبان بولنے والے افراد کو ہدف بنا رہا تھا۔
ممکنہ دہشت گرد منصوبے
ترک سیکیورٹی حکام کے مطابق اس اہم کارروائی اور قازانجی کی گرفتاری سے نہ صرف ترکی کے اندر ممکنہ دہشت گردانہ منصوبوں کو وقت سے پہلے ناکام بنانے میں مدد ملی ہے، بلکہ داعش خراسان کے بھرتی کرنے والے نیٹ ورک کو بھی مکمل طور پر بے نقاب کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں تنظیم کے مستقبل کے عزائم اور دیگر سہولت کاروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ داعش خراسان بنیادی طور پر افغانستان اور اس کے ارد گرد کے خطے میں سرگرم عمل ہے۔