روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں تعینات برطانوی اسپیشل فورسز کی جانب سے کی جانے والی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے حوالے سے انتہائی سنگین اور نئے شواہد سامنے آنے کا انکشاف کیا ہے۔ ماسکو میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے برطانوی افواج کی افغانستان میں کی جانے والی مبینہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
معصوم شہریوں کی ہلاکت
ترجمان ماریا زاخارووا کے مطابق سامنے آنے والے نئے حقائق اور شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر 80 تک بے گناہ افغان شہری ہلاک ہوئے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ان ہلاکتوں کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں شامل کرنے کی طرف اشارہ کیا۔
Russia's Foreign Ministry, citing its spokeswoman Maria Zakharova, said that new evidence has emerged of extrajudicial executions carried out by UK special forces in Afghanistan.
— TOLOnews English (@TOLONewsEnglish) June 18, 2026
According to her, up to 80 civilians may have been killed by British forces.
Zakharova stressed… pic.twitter.com/JGimcJBBqF
شفاف تحقیقات کا مطالبہ
روسی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ ان سنگین الزامات کی فوری، مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ ماریا زاخارووا نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو ان ہلاکتوں میں ملوث تمام ذمہ دار برطانوی فوجی اہلکاروں اور ان کے کمانڈروں کو بلا تاخیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے جرائم پر خاموشی بین الاقوامی قوانین کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔
دیکھیے: افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ: برطانیہ کی پاکستان اور افغانستان کو مذاکرات کی پیشکش