برطانوی رکن پارلیمنٹ اور مشرقِ وسطیٰ، افغانستان و پاکستان کے امور کے وزیر ہیمش فالکنر نے اسلام آباد کے اپنے دورے کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق وزیر ہیمش فالکنر نے پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے سفیر محمد صادق خان سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں پاک افغان سرحد پر جاری حالیہ کشیدگی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
برطانوی مؤقف
ملاقات کے دوران برطانوی وزیر کی جانب سے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے درپیش دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے برطانیہ نے پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ برطانیہ اپنی سرحدی سلامتی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم پر سختی سے قائم ہے، اور موجودہ عالمی تناظر میں ان مقاصد کے حصول کے لیے بین الاقوامی شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انسدادِ دہشت گردی
برطانوی ہائی کمیشن نے اپنے اعلامیے میں مزید کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنا نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی تناظر میں برطانیہ پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تکنیکی اور عملی معاونت فراہم کر رہا ہے۔
اس شراکت داری کے تحت پاکستانی سول اہلکاروں کو دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی جدید خطوط پر تفتیش کرنے اور مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔