وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے حالیہ مفاہمتی معاہدے میں پاکستان نے جو ثالثی اور سہولت کاری کا کلیدی کردار ادا کیا ہے، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو غیر معمولی عزت و وقار سے نوازا ہے اور آج بھارت سمیت دنیا بھر میں پاکستان کا نام احترام سے لیا جا رہا ہے، جو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ وزیراعظم نے اس بڑی سفارتی کامیابی کو ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ اور مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ایرانی صدر کا شکریہ
ایوان کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے تقریباً آدھے گھنٹے طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔ ایرانی صدر نے اس نازک اور مشکل صورتحال میں پاکستان کے بھرپور تعاون، خلوص اور یکجہتی پر پاکستانی قوم اور قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
گفتگو کے دوران ایران کے اعلیٰ رہنما علی خامنائی کا بھی ذکر ہوا اور دونوں رہنماؤں نے باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے جلد پاکستان آنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
جنگ بندی اور معاشی بہتری
وزیراعظم نے معاشی محاذ پر عوام کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پٹرولیم قیمتوں کا ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لے رہی ہے اور عالمی سطح پر ہونے والی کمی کا پورا فائدہ براہِ راست عوام تک منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ بحران کے دوران بھی حکومت نے 128 ارب روپے کے مالی اقدامات کے ذریعے مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی، اور اب معاشی بہتری کی نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔
دوست ممالک کو خراجِ تحسین
وزیراعظم نے مشکل ترین حالات میں توانائی کے نظام کو مستحکم رکھنے پر وزارتِ پیٹرولیم، وزارتِ خزانہ اور تمام متعلقہ اداروں کے حکام کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے عوامی ریلیف کے عمل میں بھرپور تعاون فراہم کرنے پر تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ مریم نواز، مراد علی شاہ، سرفراز بگٹی اور سہیل آفریدی کا شکریہ ادا کیا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور چین کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے توانائی اور معاشی استحکام کے لیے پاکستان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے ایوان پر زور دیا کہ وہ اندرونی اختلافات سے بالاتر ہو کر عالمی برادری کو قومی اتحاد اور یکجہتی کا مضبوط پیغام دیں۔
دیکھیے: سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیاں؛ پاکستان کا سلامتی کونسل سے رجوع