اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل بھارتی خلاف ورزیوں کا معاملہ باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے اٹھا دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم سفارتی پیشرفت کے تحت اہم دستاویزات کونسل کے سپرد کی گئی ہیں۔
وزیر خارجہ کا خصوصی خط
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی جانب سے لکھا گیا ایک خصوصی خط سلامتی کونسل کی جون 2026 کے لیے صدر اور کولمبیا کی مستقل مندوب سفیر لیونور زالاباتا ٹوریس کے حوالے کیا۔
اس خط میں سلامتی کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت کو اس کی کھلی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔
Ambassador Asim Iftikhar Ahmad hands DPM/FM’s Letter on India’s IWT Violations to the President of the Security Council
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) June 18, 2026
– Our Press Release today@Asimiahmad@SAfridiOfficial@PTVNewsOfficial@GovtofPakistan@appcsocialmedia@RadioPakistan@PkPublicDiplo@ForeignOfficePk… pic.twitter.com/qxAUTuWpHL
دریائے چناب پر بھارتی جارحیت
حکام کے مطابق اس مراسلے میں سلامتی کونسل کی توجہ دریائے چناب کے نظام پر تعمیر کیے جانے والے بھارت کے دو غیر قانونی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی طرف دلائی گئی ہے، جن کا مقصد پانی کا رخ موڑنا ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اقدامات 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت طے شدہ طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کی بھارتی نیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے ان بھارتی ہتھکنڈوں سے پاکستان کی آبی، غذائی اور اقتصادی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
علاقائی سلامتی پر بریفنگ
ملاقات کے دوران مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کی صدر کو جنوبی ایشیا کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر بھارت کی جانب سے مسلسل عدم تعمیل کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔